اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کی ہم آہنگی کے دفتر (او سی ایچ اے) کی جانب سے پاک افغان فوجی کشیدگی پر جاری کردہ حالیہ رپورٹ نے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار اور بیانیہ نہ صرف یکطرفہ ہے بلکہ اس میں سرحد پار دہشت گردی کے اصل اسباب کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، جس پر اقوامِ متحدہ کو عالمی سطح پر جوابدہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حقائق کا فقدان
او سی ایچ اے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری کے آخر سے جاری کشیدگی میں اب تک سینکڑوں شہری متاثر ہوئے اور ہزاروں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ تاہم، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے نے ان ہلاکتوں کی اصل وجوہات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے نشانے پر صرف کالعدم ٹی ٹی پی کے وہ ٹھکانے ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں، لیکن رپورٹ میں انہیں ‘شہری ہلاکتیں’ اور ‘سول انفراسٹرکچر’ کا نقصان بتا کر عالمی برادری کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
Situation Update #𝟐: Afghanistan–Pakistan military escalation
— OCHA Afghanistan (@OCHAAfg) March 18, 2026
🔹Civilian casualties in Afghanistan rise to 289 since end-February
🔹40,000 people verified as displaced
🔹318 shelters destroyed or damaged
🔹Humanitarian response ongoing
More ➡️ https://t.co/Z0SZmwWOwL pic.twitter.com/8Uq0Opdi9k
اقوامِ متحدہ کی خاموشی
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو کلپس اور ناقابلِ تردید شواہد واضح کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہ باقاعدہ منظم طریقے سے پاکستانی حدود میں ڈرون اور میزائل حملے کر رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، ان حملوں کا جواب دینا پاکستان کا قانونی اور بین الاقوامی حق ہے۔ او سی ایچ اے جیسی تنظیمیں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کے بجائے صرف جوابی کارروائیوں پر واویلا کر کے اپنے جانبدارانہ ہونے کا ثبوت دے رہی ہیں۔
انسانی ہمدردی کے نام پر سیاسی بیانیہ
رپورٹ میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں نقصانات کا ذکر تو کیا گیا ہے، لیکن یہ حقیقت چھپائی گئی ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کے مضبوط مراکز موجود ہیں جہاں سے وہ معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کو اس بات پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے کہ اس کی رپورٹس کس طرح دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہی ہیں اور ان میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے ثبوتوں کو کیوں جگہ نہیں دی جا رہی۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے بند نہیں ہوتے، وہ اپنی سلامتی اور قومی بقا کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ رپورٹنگ کے بجائے خطے میں دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے تعاون کریں
دیکھیے: بھارت-اسرائیل تعلقات اور پاکستان؛ خطے میں نئی سفارتی صف بندی جاری؟