سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پاکستان کے خلاف نورستان کے علاقے میں مبینہ گولہ باری کے حوالے سے گردش کرنے والا دعویٰ مکمل طور پر مسترد اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ دستیاب شواہد اور سرحدی امور کے ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ عید کے موقع پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں حقیقت کے منافی اور ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
بیانیے کی حقیقت
گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ایک مخصوص بیانیہ وائرل تھا جس میں یہ من گھڑت دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فورسز نے نورستان کے ضلع کامدیش میں گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں ایک افغان خاتون ڈاکٹر اور ان کا بیٹا جاں بحق جبکہ شوہر زخمی ہوئے۔ اس جھوٹی خبر کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان سرحدی علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔
#Pakistan have once again demonstrated a failure to uphold their Eid ceasefire commitments, breaching it on the dry 1st day of Eid in Nuristan’s Kamdesh, where a female doctor & her son were killed in shelling,her husband sustained injuries..#Afghanistan
— Bashir Gharwal غروال (@bashir_gharwall) March 20, 2026
pic.twitter.com/kq46jCquIo
تحقیقاتی رپورٹ
تاہم، زمینی حقائق اور باوثوق ذرائع سے کی گئی تحقیقات کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مذکورہ مقام پر پاکستانی فورسز کی جانب سے کسی قسم کی کوئی اشتعال انگیزی یا گولہ باری نہیں کی گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس خبر کو دانستہ طور پر پھیلایا گیا تاکہ برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو سبوتاژ اور کشیدگی پیدا کی جا سکے۔
سرحدی صورتحال
سرحدی ذرائع کا کہنا ہے کہ عید کے ایام میں سرحد پر صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی ہے اور کسی بھی سطح پر معاہدوں کی خلاف ورزی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حساس واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ایک مخصوص ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنا ہے۔ حکام نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی غیر مصدقہ اور سنسنی خیز خبروں پر کان دھرنے کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات کی تصدیق کریں۔