ریاض میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی حالیہ ملاقات نے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع مسلم دنیا کی سفارتی بساط پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ محض رسمی مصافحہ نہیں تھا؛ یہ ایسے وقت میں ہوا جب خطہ جنگ، عدم استحکام، امریکی غیر یقینی پالیسی، ایران سے کشیدگی اور اسرائیل۔امریکہ محاذ آرائی کے دباؤ سے گزر رہا ہے۔ اسی لیے اس ملاقات کو ایک ممکنہ نئے اسلامی سکیورٹی فریم ورک کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ ابھی کسی باقاعدہ اتحاد کا سرکاری اعلان نہیں ہوا۔
The foreign ministers of Turkiye, Saudi Arabia, Egypt and Pakistan this week held talks in Riyadh on the sideline of a summit of Islamic countries and discussed ways to combine their strengths for the first time
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) March 22, 2026
https://t.co/lq0qCSCxfy
پس منظر: پاکستان۔سعودی دفاعی معاہدہ پہلے ہی ہو چکا
اس پوری بحث کی بنیاد صرف قیاس آرائی نہیں۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب ایک باقاعدہ اسٹریٹجک/میوچل دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، جس کے تحت ایک ملک پر جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ قدم دہائیوں پر محیط عسکری تعلقات کو رسمی دفاعی ڈھانچے میں بدلنے والا سنگِ میل تھا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ترکی کی دلچسپی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ جنوری 2026 میں پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے رائٹرز سے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مسودہ تقریباً ایک سال سے زیرِ غور ہے، تینوں ممالک کے پاس موجود ہے، اور حتمی اتفاقِ رائے باقی ہے۔ اس بیان نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ ریاض کی حالیہ ملاقات کسی اچانک خیال کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پہلے سے چلتے سفارتی و دفاعی عمل کا تسلسل ہے۔
ترکی کی شمولیت کی کوششیں، مصر کا بڑھتا کردار
ترکی گزشتہ ایک سال سے اس دفاعی ڈھانچے کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ریاض میں واضح کیا کہ یہ ممالک اپنی طاقتوں کو یکجا کر کے خطے کے مسائل حل کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں اور “علاقائی ملکیت” کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔۔ یہ جملہ سفارتی زبان میں معمولی نہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے کے بڑے مسلم ممالک اب سلامتی کے سوال پر بیرونی طاقتوں کے سائے سے نکل کر اپنے انتظامی و دفاعی بندوبست کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ترکی نہ صرف اس معاہدے کا حصہ بننا چاہتا ہے بلکہ مصر کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دفاعی صنعت، اسلحہ سازی اور انٹیلیجنس تعاون کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا سکے۔
اسی تناظر میں پاکستان اور مصر کے درمیان جنوری 2026 میں انٹیلیجنس شیئرنگ اور انسداد دہشتگردی کے معاہدے، جبکہ ترکی اور مصر کے درمیان فروری 2026 میں 350 ملین ڈالر کے دفاعی تعاون کے معاہدے بھی سامنے آ چکے ہیں۔
مصر کی شمولیت کیوں اہم ہے؟
اگر اس ابھرتی ترتیب میں مصر بھی شامل ہوتا ہے تو معاملہ محض تین ملکوں کے دفاعی تعاون سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ مصر عرب دنیا کی ایک بڑی فوجی قوت ہے، سعودی عرب مالی و تزویراتی وزن رکھتا ہے، ترکی کے پاس جدید دفاعی صنعت، ڈرون صلاحیت اور علاقائی رسائی ہے، جبکہ پاکستان جوہری صلاحیت، بڑی فوج، آپریشنل تجربہ اور مسلم دنیا میں ایک منفرد دفاعی مقام رکھتا ہے۔ ان چاروں کا ایک پلیٹ فارم پر آنا ایک نئے “اسلامی اسٹریٹجک اسپائن” کی بنیاد بن سکتا ہے۔ البتہ اس مرحلے پر یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ امکانات پیدا ہوئے ہیں، اتحاد ابھی تشکیل نہیں پایا۔
اسلامی نیٹو یا عملی تعاون؟
اگرچہ بعض حلقے اسے “اسلامی نیٹو” کا نام دے رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ زیادہ تر ایک اسٹریٹیجک کوآرڈینیشن یا ہیجنگ اسٹریٹیجی ہے، نہ کہ فوری طور پر کوئی باضابطہ دفاعی اتحاد۔
اس کی بڑی وجہ ترکی کی نیٹو رکنیت ہے، جو کسی بھی ایسے معاہدے کو محدود کرتی ہے جس میں باہمی دفاع کی شق شامل ہو۔ اسی لیے موجودہ بات چیت زیادہ تر غیر رسمی تعاون، انٹیلیجنس شیئرنگ، دفاعی صنعت اور لاجسٹکس تک محدود رکھی جا رہی ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں امریکی سکیورٹی چھتری کی حدود کو محسوس کیا ہے، جبکہ پاکستان اور ترکی پہلے ہی دفاعی صنعت، بحری جہاز سازی، فضائی تربیت اور ڈرون و اپ گریڈ پروگرامز میں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ اسی لیے ایک ایسا بلاک، جو رسمی ہو یا غیر رسمی، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان سکیورٹی پل بن سکتا ہے۔
پاکستان کیوں مرکزی کردار میں دکھائی دیتا ہے؟
پاکستان اس ممکنہ نقشے میں محض ایک شریک نہیں بلکہ ممکنہ محور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ سعودی عرب کے ساتھ پہلے سے موجود دفاعی معاہدہ ہے، دوسری وجہ ترکی کے ساتھ دیرینہ عسکری تعاون، اور تیسری وجہ پاکستان کی جوہری و فوجی حیثیت۔ اسی بنا پر بعض مبصرین اسے ایک ایسے مستقبل کے اسلامی دفاعی بندوبست کا ممکنہ قائدانہ ستون سمجھ رہے ہیں جس میں سعودی عرب مالی و سیاسی پشت پناہی دے سکتا ہے۔ البتہ یہ نتیجہ ابھی تجزیاتی سطح پر ہے، سرکاری سطح پر ایسی قیادت یا اتحاد کے خدوخال جاری نہیں کیے گئے۔
آج کے تناظر میں اس اتحاد کی اہمیت کیا ہے؟
اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں ایران، خلیجی ریاستوں، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ریاض میں 18 مارچ 2026 کو ہونے والی وسیع تر علاقائی ملاقات اسی تناؤ کے بیچ منعقد ہوئی، جہاں متعدد مسلم ممالک نے حالیہ حملوں اور علاقائی عدم استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ماحول میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کا قریب آنا ایک دفاعی سے زیادہ تزویراتی اشارہ ہے: مسلم دنیا اب اپنے اجتماعی ردعمل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔
اس ممکنہ صف بندی کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ یہ دفاعی صنعت، انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ تربیت، ہتھیاروں کی تیاری، میزائل و ڈرون تعاون، سمندری سلامتی اور توانائی تنصیبات کے دفاع جیسے شعبوں میں عملی تعاون کو نئی سطح دے سکتی ہے۔ پاکستان کو معیشت، سرمایہ کاری اور دفاعی برآمدات میں فائدہ ہو سکتا ہے، سعودی عرب کو قابلِ اعتماد عسکری پارٹنرشپ مل سکتی ہے، ترکی کو اپنی علاقائی اسٹریٹیجک خودمختاری بڑھانے کا موقع ملے گا، جبکہ مصر کے لیے یہ ایک نئی عرب۔اسلامی سکیورٹی کڑی بن سکتی ہے۔
مگر رکاوٹیں بھی کم نہیں
اس پورے تصور کے سامنے کئی مشکل سوال بھی کھڑے ہیں۔ ترکی کی نیٹو رکنیت، مصر اور ترکی کے ماضی کے اختلافات، ایران کے ساتھ ہر ملک کے الگ مفادات، اور امریکا کے ساتھ تعلقات کی نزاکت ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی باقاعدہ “اسلامی نیٹو” کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فی الحال زیادہ محتاط تعبیر یہی ہے کہ ریاض کی ملاقات نے ایک نئے سکیورٹی محور کے امکان کو تقویت دی ہے، لیکن اسے مکمل اتحاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
مسلم دنیا میں طاقت کی نئی صف بندی؟
ریاض کی ملاقات نے اگرچہ کسی رسمی اتحاد کا اعلان نہیں کیا، لیکن اس نے ایک واضح سمت ضرور متعین کر دی ہے۔ مسلم دنیا کے بڑے ممالک اب مشترکہ سکیورٹی سوچ اور تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ “اسلامی نیٹو” بنے گا یا نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی یہ قربت خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دینے جا رہی ہے اور اس تبدیلی میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے
دیکھئیے:بھارت-اسرائیل تعلقات اور پاکستان؛ خطے میں نئی سفارتی صف بندی جاری؟