تجزیہ کار آصف محمود نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے اور رواں ہفتے اسلام آباد میں ممکنہ ایران-امریکا مذاکرات ایک بڑی سفارتی کامیابی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد کی پاکستان آمد نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہی اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے کہ دونوں اہم ممالک کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ آصف محمود نے اس امر پر بھی زور دیا کہ چند سال قبل پاکستان کو غیر اہم قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد پاکستان کا عالمی کردار مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے اور ایران و امریکا کے درمیان کسی ممکنہ جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں کرے گا بلکہ توازن کی پالیسی پر قائم رہے گا، کیونکہ سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
آصف محمود نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” دراصل ایک حکمت عملی تھی، تاہم ایران کے ردعمل نے اسے غیر مؤثر ثابت کر دیا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز میں بھی اس کا عملی خاتمہ نظر آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں ایک نئی “دلدل” میں پھنس چکے ہیں اور امریکا اس صورتحال سے جلد نکلنا چاہتا ہے، جبکہ کچھ خلیجی ممالک ایران کے خلاف سخت اقدامات کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا مزید عرصہ ایران میں الجھا رہا تو مختلف قوتیں ایران کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہیں۔
آصف محمود نے یہ گفتگو ایچ ٹی این اردو کے اسپیس سیشن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر خطاب کرتے ہوئے کی۔
دیکھیے: پاکستان رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے: مائیکل کوگلمین