عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بدلتے منظرنامے میں پاکستان کا نام نمایاں ہو رہا ہے اور اس کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، ایٹمی طاقت، اور سفارتی کردار اسے ایک ایسا ملک بنا رہے ہیں جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں

March 25, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 8 ممالک کی جانب سے سلامتی کونسل میں مشترکہ بیان پیش کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی شدید مذمت کی ہے

March 25, 2026

پاکستان، ترکیہ اور مصر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں 48 گھنٹوں کے اندر براہِ راست مذاکرات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے پاکستان کے ذریعے تہران کو 15 نکاتی ایجنڈا ارسال کر دیا ہے

March 25, 2026

آصف محمود نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” دراصل ایک حکمت عملی تھی، تاہم ایران کے ردعمل نے اسے غیر مؤثر ثابت کر دیا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز میں بھی اس کا عملی خاتمہ نظر آیا۔

March 25, 2026

انہوں نے داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی علماء سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر چلنے والا پروپیگنڈا بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کسی کو بھی بیرونی ایجنڈا چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

March 25, 2026

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں کسی بڑے حملے کا تعلق افغانستان سے ثابت نہ ہوا تو کشیدگی میں کمی کا امکان ہے، جبکہ سرحد پار سے چھیڑ چھاڑ نہ ہونے کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع نہ ہونے کی امید ہے۔

March 25, 2026

توازن کی پالیسی کامیاب، پاکستان خطے میں امن کا ضامن بن گیا، “پاکستان کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں کرے گا”؛ آصف محمود

آصف محمود نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” دراصل ایک حکمت عملی تھی، تاہم ایران کے ردعمل نے اسے غیر مؤثر ثابت کر دیا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز میں بھی اس کا عملی خاتمہ نظر آیا۔
توازن کی پالیسی کامیاب، پاکستان خطے میں امن کا ضامن بن گیا، “پاکستان کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں کرے گا”؛ آصف محمود

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہی اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے کہ دونوں اہم ممالک کو ساتھ لے کر چلا جائے۔

March 25, 2026

تجزیہ کار آصف محمود نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے اور رواں ہفتے اسلام آباد میں ممکنہ ایران-امریکا مذاکرات ایک بڑی سفارتی کامیابی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد کی پاکستان آمد نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہی اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے کہ دونوں اہم ممالک کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ آصف محمود نے اس امر پر بھی زور دیا کہ چند سال قبل پاکستان کو غیر اہم قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد پاکستان کا عالمی کردار مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے اور ایران و امریکا کے درمیان کسی ممکنہ جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں کرے گا بلکہ توازن کی پالیسی پر قائم رہے گا، کیونکہ سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

آصف محمود نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” دراصل ایک حکمت عملی تھی، تاہم ایران کے ردعمل نے اسے غیر مؤثر ثابت کر دیا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز میں بھی اس کا عملی خاتمہ نظر آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں ایک نئی “دلدل” میں پھنس چکے ہیں اور امریکا اس صورتحال سے جلد نکلنا چاہتا ہے، جبکہ کچھ خلیجی ممالک ایران کے خلاف سخت اقدامات کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا مزید عرصہ ایران میں الجھا رہا تو مختلف قوتیں ایران کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہیں۔

آصف محمود نے یہ گفتگو ایچ ٹی این اردو کے اسپیس سیشن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر خطاب کرتے ہوئے کی۔

دیکھیے: پاکستان رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے: مائیکل کوگلمین

متعلقہ مضامین

عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بدلتے منظرنامے میں پاکستان کا نام نمایاں ہو رہا ہے اور اس کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، ایٹمی طاقت، اور سفارتی کردار اسے ایک ایسا ملک بنا رہے ہیں جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں

March 25, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 8 ممالک کی جانب سے سلامتی کونسل میں مشترکہ بیان پیش کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی شدید مذمت کی ہے

March 25, 2026

پاکستان، ترکیہ اور مصر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں 48 گھنٹوں کے اندر براہِ راست مذاکرات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے پاکستان کے ذریعے تہران کو 15 نکاتی ایجنڈا ارسال کر دیا ہے

March 25, 2026

انہوں نے داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی علماء سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر چلنے والا پروپیگنڈا بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کسی کو بھی بیرونی ایجنڈا چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

March 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *