کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے آزاد صحافت کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں تیزی آگئی ہے، جس کی تازہ ترین مثال طلوع نیوز کے دو صحافیوں، منصور نیازی اور عمران دانش کی کابل سے پراسرار حراست ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان صحافیوں کو گزشتہ جمعرات کو کابل کے علاقے کارتہ چہار سے حراست میں لیا گیا، تاہم اب تک ان کے ٹھکانے یا ان پر عائد الزامات کے حوالے سے کوئی شفاف معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دفاعی اور میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ طالبان کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد افغانستان سے آزاد رپورٹنگ کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
شبکهی طلوعنیوز تأیید کرده است که گروه طالبان، منصور نیازی و عمران دانش، خبرنگاران این شبکه را بازداشت کرده است.
— Aamaj News (@aamajnews_24) May 10, 2026
بر اساس طلوعنیوز، مقامهای امنیتی طالبان اعلام کردهاند که جزئیات این بازداشت پس از تکمیل مراحل قانونی با رسانهها شریک خواهد شد.
منابع میگویند که این دو… pic.twitter.com/YFxt6RNC0t
صرف سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک 34 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر و استبداد کی لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2021 سے اب تک سینکڑوں میڈیا ورکرز کو “پروپیگنڈا”، “غیر ملکی روابط” اور “اخلاقی کرپشن” جیسے مبہم الزامات کے تحت قید کیا جا چکا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ قانون کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
صحافیوں کو دی جانے والی سخت سزائیں، جیسے مہدی انصاری کی 18 ماہ اور حامد فرہادی کی 2 سال قید، طالبان کے تعزیری اقدامات کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح شکیب احمد نظری کو 3 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ بشیر ہاتف جیسے کئی صحافی تاحال بغیر کسی قانونی کارروائی کے زیرِ حراست ہیں۔ جولائی 2025 میں انٹیلی جنس اور اخلاقیات کے حکام کی جانب سے کیے گئے چھاپے اس منظم مہم کا ثبوت ہیں، جہاں جبری اعترافات اور بند کمرہ ٹرائلز کے ذریعے قانونی شفافیت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
اس جبر کے نتیجے میں افغانستان کا میڈیا ایکو سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اب تک ملک کے نصف سے زائد میڈیا ادارے بند ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں صحافی جان بچا کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ خواتین صحافیوں کو تو تقریباً مکمل طور پر میڈیا کی جگہ سے بے دخل کر دیا گیا ہے، جو صنفی بنیادوں پر جبر کی بدترین مثال ہے۔ ریڈیو نسیم اور رسا ٹیلی ویژن جیسے اداروں کی بندش اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان کا ہدف حقائق کو دبانا اور معلومات کے خلا کو صرف اپنے کنٹرولڈ پروپیگنڈے سے بھرنا ہے تاکہ ان کے اقدامات پر کوئی تنقید نہ ہو سکے۔