پشاور: پاکستان سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں بشمول افغان باشندوں کی اپنے وطن واپسی کا عمل جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں طورخم سرحد پر واپسی کے منتظر خاندانوں کے رش اور گاڑیوں کی طویل قطاروں کو بعض حلقوں کی جانب سے ‘رکاوٹ’ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی انتظامیہ اور سیکیورٹی ذرائع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحد پر موجود صورتحال جان بوجھ کر پیدا نہیں کی گئی بلکہ یہ بارڈر مینجمنٹ کے پیچیدہ عمل اور افغانستان کی جانب محدود انتظامی گنجائش کا نتیجہ ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق طورخم سے پشاور تک ٹرکوں کی قطاریں دراصل واپسی کے عمل کی شفافیت اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ہر جانے والے فرد کی بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی پروٹوکولز پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں ممالک کی طویل المدتی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
Has Pakistan Changed Its Mind About Afghan Refugees ??
— Sami Yousafzai سمیع یوسفزي (@SamiYousafzaii) May 9, 2026
If Afghans refugees made mind to leave Pakistan , why Pak create more obstacles for their smooth return?
Pakistan’s Afghan refugee policy is full of contradictions. On one side, authorities continue mass expulsions…
پاکستان کی مہاجرین پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 40 سالوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر کے دنیا میں سخاوت کی مثال قائم کی ہے۔ اب جبکہ افغانستان میں حالات سازگار ہیں، پاکستان کا مقصد ان کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ ایک منظم اور پرامن واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ سرحد پر موجود دباؤ کی ایک بڑی وجہ افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے یومیہ بنیادوں پر کمنگ ریٹ (آمد کی شرح) کو کنٹرول کرنا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی حدود میں ٹرکوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔
جہاں تک انسانی ہمدردی کا تعلق ہے، ضلعی انتظامیہ سرحد پر موجود خاندانوں کو پانی، لنگر اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ عالمی برادری اور یو این ایچ سی آر کو محض بیانات دینے کے بجائے عملی طور پر ان مہاجرین کی واپسی کے لیے لاجسٹک مدد فراہم کرنی چاہیے۔ پاکستان اپنی محدود معیشت کے باوجود اس بڑے انسانی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہے۔
حکومتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن کا خواہاں ہے تاکہ سرحد پر موجود خاندانوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت اپنے ہاں استقبالیہ مراکز کی رفتار بڑھائے تاکہ سرحد پر جمع ہونے والا بوجھ جلد از جلد ختم ہو سکے۔ پاکستان کے لیے یہ عمل کسی کو دکھ پہنچانا نہیں بلکہ اپنی قومی پالیسی کے تحت سرحدوں کو باضابطہ بنانا ہے۔