پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے بھارت کے حالیہ رویے اور معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق محفوظ اور متوقع پانی تک رسائی محض ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے، اور بھارت کا کوئی بھی یکطرفہ اقدام انڈس بیسن میں انسانی تحفظ کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
زراعت اور غذائی تحفظ پر اثرات
پاکستان کا وسیع آبپاشی نظام، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مکمل طور پر دریائے سندھ کے متوقع بہاؤ پر منحصر ہے۔ معاہدے میں کسی بھی قسم کا خلل نہ صرف نہری نظام اور آبپاشی کے شیڈول کو درہم برہم کر دے گا، بلکہ اس سے فصلوں کی پیداوار میں کمی اور ملک میں غذائی قلت کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرینِ زراعت نے خبردار کیا ہے کہ بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال دیہی آمدنی اور خوراک کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوگی۔
انسانی صحت اور معاشی استحکام
پانی کی مستقل فراہمی صرف زراعت تک محدود نہیں، بلکہ یہ پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور صحتِ عامہ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انڈس واٹرز ٹریٹی کی معطلی سے بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کے منصوبے اور صنعتی شعبہ بھی پانی کی دستیابی سے جڑا ہوا ہے، جس میں خلل توانائی کے بحران اور معاشی عدم استحکام کا باعث بنے گا۔
عالمی قوانین اور علاقائی استحکام
پاکستان کا مؤقف ہے کہ مشترکہ دریاؤں کا منصفانہ استعمال اور نچلے کنارے والے ممالک کے حقوق کا تحفظ بین الاقوامی مسلمہ اصول ہیں۔ بھارت کا معاہدے سے انحراف نہ صرف 1960 کے تاریخی فریم ورک کو کمزور کرتا ہے بلکہ عالمی قانون کے پورے نظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں آبی تعاون کی کمی علاقائی خطرات کو مزید ہوا دے گی۔