خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے ایک جامع اور مرحلہ وار حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں پاک۔ افغان طورخم بارڈر کو مخصوص قافلوں کے لیے جزوی طور پر کھولنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ حکام کا واضح کہنا ہے کہ سرحد عام آمد و رفت کے لیے بند رہے گی اور اسے صرف ان طے شدہ سرکاری قافلوں کی روانگی کے لیے استعمال کیا جائے گا، جن کی واپسی کا عمل کل سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
پہلا مرحلہ اور جیلوں سے منتقلی
واپسی کے اس پورے عمل کو تین اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا پہلا مرحلہ مختلف جیلوں میں قید افغان شہریوں سے شروع ہوگا۔ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق پشاور، کوہاٹ اور ہری پور کی جیلوں میں اس وقت 2200 سے زائد افغان باشندے قید ہیں، جن کی دیکھ بھال پر روزانہ لاکھوں روپے کے سرکاری اخراجات آ رہے ہیں۔ ان قیدیوں کو پہلے جیلوں سے نکال کر ناصر باغ کیمپ منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی باقاعدہ رجسٹریشن مکمل کی جائے گی۔
سکیورٹی پلان اور رجسٹریشن
حکومت نے مہاجرین کی واپسی کو منظم بنانے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ ناصر باغ کیمپ میں رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد مہاجرین کو باقاعدہ قافلوں کی شکل میں روانہ کیا جائے گا۔ جمرود سے طورخم بارڈر تک ان قافلوں کی حفاظت کی ذمہ داری خیبر پولیس کو سونپی گئی ہے تاکہ منتقلی کے دوران امن و امان برقرار رہے۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف جیلوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ صوبائی خزانے پر آنے والے اضافی اخراجات میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہوگی۔
آئندہ کے مراحل
پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے میں مہاجر کیمپوں میں مقیم افغان باشندوں کو واپس بھیجا جائے گا، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں صوبے کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ اس منظم اور باعزت طریقے سے نہ صرف غیر قانونی مقیم افراد کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ اس سے صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔