...
دہلی کی ہندوتوا عدالت سے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا کا احمقانہ فیصلہ پون صدی سے کشمیریوں کے خون سے لکھی جانے والی کتابِ حریت کا تازہ باب ہے، جس میں ایک نہتی، باکردار اور باہمت کشمیری خاتون نے بھارت کے غرور کو چیلنج کیا ہوا ہے

March 25, 2026

مجموعی طور پر 16 افراد کے خلاف حراستی احکامات جاری کیے گئے، جن میں سابق فٹبال کلب صدور فکریت اورمن اور براق الماس بھی شامل ہیں

March 25, 2026

امیر قطر نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا

March 25, 2026

عالمی سطح پر توانائی بحران کے تناظر میں یہ قدم عوام کو فوری ریلیف دینے اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے

March 25, 2026

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ مضبوط مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی معاہدے کیلئے اپنے مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا

March 25, 2026

خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا، اور طالبان کی موجودہ پالیسیاں افغانستان کو عالمی تنہائی اور معاشی بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

March 25, 2026

آسیہ اندرابی: کشمیر کی خاتون آہن               

دہلی کی ہندوتوا عدالت سے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا کا احمقانہ فیصلہ پون صدی سے کشمیریوں کے خون سے لکھی جانے والی کتابِ حریت کا تازہ باب ہے، جس میں ایک نہتی، باکردار اور باہمت کشمیری خاتون نے بھارت کے غرور کو چیلنج کیا ہوا ہے
دہلی کی ہندوتوا عدالت سے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا کا احمقانہ فیصلہ پون صدی سے کشمیریوں کے خون سے لکھی جانے والی کتابِ حریت کا تازہ باب ہے، جس میں ایک نہتی، باکردار اور باہمت کشمیری خاتون نے بھارت کے غرور کو چیلنج کیا ہوا ہے

بھارتی عدالت نے آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھیوں کو تیس تیس سال کی سزا سنا دی ہے، مگر یہ قید و بند آزادی کے گیت سے زیادہ نہیں۔ آسیہ اندرابی پرامن مزاحمت کی علامت اور ایک ایسی ہیرو ہیں جس نے اپنی کمزور ہڈیوں کے ساتھ جابر ریاست کی طاقت کو چیلنج کر رکھا ہے

March 25, 2026

دہلی کی ہندوتوا عدالت سے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا کا احمقانہ فیصلہ پون صدی سے کشمیریوں کے خون سے لکھی جانے والی کتاب حریت کا تازہ باب ہے جس میں ایک نہتی، باکردار اور باہمت کشمیری خاتون نے بھارت کے غرور کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ آسیہ اندرابی آج محض ایک قیدی نہیں، وہ کشمیر کی تاریخ کا وہ روشن چراغ ہیں جسے ظلم کی آندھیاں بجھا نہیں سکیں۔ بھارتی عدالت نے انہیں عمر قید اور ان کی ساتھیوں ناہدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی سزا سنادی ہے، مگر اس فیصلے نے ان کی شخصیت کو کمزور نہیں کیا بلکہ مزید طاقت دے دی ہے۔ دنیا جانتی ہے، یہ قید و بند، یہ دار و رسن، یہ جیلیں، اور سزائیں رہروان آزادی کے پیروں کی دھول اور ہتھکڑیوں کی چھنچھناہٹ آزادی کے گیت سے زیادہ نہیں۔

جب ساز سلاسل بجتے تھے، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے

وہ رِیت ابھی تک باقی ہے، یہ رسم ابھی تک جاری ہے

آسیہ اندرابی کی پوری زندگی کشمیر کی آزادی، انسانی حقوق اور خواتین کی عزت و وقار کے تحفظ کا استعارہ ہے۔ وہ بندوق کی زبان نہیں جانتی مگر دلیل، اصول اور ثابت قدمی کے ہتھیار سے بندوقوں پر لرزہ طاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہیں کبھی ریاستی املاک پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ نہ ثابت کیا جا سکا، کبھی کسی مسلح کارروائی میں ملوث نہ دکھایا جا سکا۔ اس سب کے باوجود انہیں وہ سزائیں سنائی گئیں جو قاتلوں اور دہشت گردوں کو بھی کم ہی ملتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ کشمیر کے حق خودارادیت کی سب سے توانا آواز تھیں۔ بھارتی ریاست کو یہ خوف ہمیشہ لاحق رہا کہ اگر یہ آواز زندہ رہی تو کشمیر میں ظلم کا پردہ چاک ہوتا رہے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ صدا، نعرے اور جذبے کو بھی قید کیا جا سکتا ہے؟ ماضی میں ایسا کبھی ممکن ہو سکا، نہ اب ہو سکے گا۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے برسوں سے ان کے خلاف بھاری سزاؤں کا مطالبہ کررہے تھے۔ انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں آٹھ سال سے زائد وقت ہو چکا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جو پہلے مقبول بٹ اور پھر افضل گورو کے مقدمات میں اختیار کیا گیا۔ دونوں کو اسی طرح کے فیصلوں کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا، جبکہ شواہد نہ ہونے کا اعتراف خود بھارتی اعلیٰ عدالتوں نے بھی کیا، افضل گورو کی سزا کا فیصلہ بھارت اور بھارتی عدلیہ کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کو کافی ہے۔ جب بھارتی چیف جسٹس نے لکھا ’’ملزم افضل گورو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا، لیکن عوام کو خوش رکھنے کی خاطر اسے سزائے موت دی جائے‘‘ لکھ لعنت، اس نظام پر اس عدلیہ پر۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی عدلیہ بھی ہندوتوا کے بجرنگی رنگ میں رنگی جا چکی ہے۔ آسیہ کا فیصلہ اسی عدالتی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہے۔

یہ احتجاج عجب ہے خلاف تیغ ستم زمیں میں جذب نہیں ہو رہا ہے خوں میرا

آسیہ اندرابی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ پاکستان سے رشتہ کیا۔۔ لاالہ اللہ کا نعرہ لگاتی ہے، کشمیر پر بھارتی قبضہ تسلیم نہیں کرتی، کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو فطری اور تاریخی حقیقت سمجھتی ہیں، وہ لاکھوں کشمیری بیٹیوں کے لئے حوصلے اور وقار کی علامت ہیں۔ یونہی نہیں کہ انہیں کشمیر کی آئرن لیڈی کہا جاتا ہے۔ مودی حکومت کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ ایک غیر مسلح، محض فکری اور سیاسی قوت رکھنے والی بزرگ خاتون بھی ان کے ظلم کو للکارتی رہے۔

چشم فلک گواہ ہے کہ کشمیری عشروں سے لاشیں اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کے دلوں سے آزادی کی خواہش ایک دن بھی کم نہیں ہوئی۔ سخت سزاؤں کے باوجود جو کشمیر آج بول رہا ہے وہ پہلے سے زیادہ پُراعتماد اور باحوصلہ ہے۔ بھارت کشمیر کی مزاحمتی سیاست کو دہشت گردی کے مقدمات میں بدل کر دنیا کو گمراہ کرنا چاہتا ہے لیکن جب ایک بزرگ اور بیمار خاتون پر ایسے سنگین الزامات لگائے جائیں جو کبھی ثابت نہ ہوسکیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اصل مقصد سیاسی آواز کا گلا گھونٹنا ہے، لیکن بقول حفیظ جونپوری:

قہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپ اور بھی الجھیں گے حلقے دام کے

آسیہ اندرابی کے اہل خانہ کا ردعمل پوری کشمیری قوم کی آواز ہے۔ ان کے بیٹے کا یہ کہنا کہ یہ سزائیں اس لئے دی جا رہی ہیں تاکہ قیدی کبھی دوبارہ اپنے گھر نہ لوٹ سکیں، ایک ایسی حقیقت ہے جس سے دنیا کو آگاہ ہونا چاہئے۔ کشمیر میں جیل محض قیدخانہ نہیں بلکہ سیاسی بدلے کا اوزار بن چکا ہے۔ وہاں اختلاف کرنے والے ہر شخص کو طویل نظربندی، عمر قید یا پھانسی کے خوف میں زندہ رہنا ہوتا ہے۔ یہ ماحول کسی بھی مہذب معاشرے کی علامت نہیں ہو سکتا۔

آسیہ اندرابی آج قید میں ضرور ہیں، مگر دل شکستہ نہیں، ان کا حوصلہ چٹان ہے، بھارتی ریاست کے لئے ایک سوال ہے، اور اس سوال کا آہنگ ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا رہے گا۔ وہ پرامن مزاحمت کی علامت ہیں، انسانی حقوق کی علمبردار ہیں، ایک ایسی ہیرو جس نے اپنی کمزور ہڈیوں کے ساتھ ایک ظالم، جابراور انسانیت کی دشمن ریاست کی طاقت کو چیلنج کر رکھا ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی میں ان کا مقام ہمیشہ برقرار رہے گا، اور آنے والی نسلیں انہیں ایک ایسی خاتون کے طور پر یاد کریں گی جس نے خوف کے زمانے میں ہمت کی مشعل روشن رکھی۔ وقت ثابت کرے گا کہ ظلم کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں اور سچائی آخر کار سر اٹھاتی ہے۔ آسیہ اندرابی کے لئے یہ سزائیں محض ایک مرحلہ ہیں، جبکہ تاریخ کا فیصلہ بہت مختلف ہوگا، انشااللہ۔

کب یاروں کو تسلیم نہیں ، کب کوئی عدو انکاری ہے

اس کوئے طلب میں ہم نے بھی دل نذر کیا جاں واری ہے

جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے

وہ رِیت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے

کچھ اہلِ ستم ، کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے

دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے

جب پرچمِ جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل

اُس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت طاری ہے

زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو

خود  ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے

متعلقہ مضامین

مجموعی طور پر 16 افراد کے خلاف حراستی احکامات جاری کیے گئے، جن میں سابق فٹبال کلب صدور فکریت اورمن اور براق الماس بھی شامل ہیں

March 25, 2026

امیر قطر نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا

March 25, 2026

عالمی سطح پر توانائی بحران کے تناظر میں یہ قدم عوام کو فوری ریلیف دینے اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے

March 25, 2026

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ مضبوط مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی معاہدے کیلئے اپنے مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا

March 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.