واشنگٹن: امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ رابطوں میں پاکستان اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جسے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وٹکوف نے بتایا کہ ممکنہ امن معاہدے کیلئے 15 نکاتی فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جسے امریکی خارجہ پالیسی ٹیم کی مشاورت سے ترتیب دے کر پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا، “یہ فریم ورک پاکستانی حکومت کے ذریعے بطور ثالث ایران کو پہنچایا گیا ہے”، جس سے اسلام آباد کے سفارتی کردار کی باضابطہ تصدیق ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک میں کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنے کیلئے مختلف اقدامات شامل ہیں، تاہم اس کی تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آئیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات اسے حساس سفارتی معاملات میں ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتے ہیں، جبکہ حالیہ پیشرفت اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی عالمی سفارتی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔