کوئٹہ: بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف سکیورٹی فورسز اور صوبائی حکومت نے ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنا لی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے حالیہ عرصے میں دو بڑے تخریبی منصوبوں، “آپریشن ہیروز” اور “آپریشن ہیروز آف ٹو” کے ذریعے صوبے بھر میں مربوط حملوں کی کوشش کی گئی، تاہم آپریشن ہیروز میں سکیورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائی نے دشمن کو ایک بھی ہدف حاصل نہ کرنے دیا۔
آپریشن ہیروز آف ٹو میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کے دوران بینکوں، پولیس اسٹیشنوں اور سڑکوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 40 کے قریب معصوم شہری جاں بحق ہوئے۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد صوبے میں خوف و ہراس پھیلانا اور معاشی ترقی کے عمل کو مفلوج کرنا تھا۔
ان بزدلانہ کارروائیوں کے جواب میں پاک فوج نے ‘آپریشن رد الفتنہ’ کے تحت فیصلہ کن ضرب لگائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 225 دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کیا جا چکا ہے۔
سکیورٹی اور سیف سٹی فیز ٹو
چیف سیکرٹری بلوچستان کے مطابق صوبائی دارالحکومت کی سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ‘سیف سٹی کوئٹہ’ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سریاب روڈ سمیت شہر کے تمام مضافاتی علاقوں کو جدید ترین نگرانی کے نظام کے تحت لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ‘سیف سٹی اتھارٹی ایکٹ’ کو صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے تاکہ سکیورٹی کے ان اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہو۔
دہشت گردوں کی بحالی اور قومی دھارے میں واپسی
حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک منفرد ری ہیبلیٹیشن ماڈل متعارف کرایا ہے۔ گرفتار دہشت گردوں کو خصوصی مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں سزا کے بجائے نفسیاتی بحالی، اسکل ٹریننگ اور سرکاری گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد مجرمانہ سوچ رکھنے والے افراد کی اصلاح کر کے انہیں معاشرے کا کارآمد اور پرامن شہری بنانا ہے۔
نوجوانوں کے لیے معاشی انقلاب: بلاسود قرضے
نوجوانوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں آلہ کار بننے سے بچانے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے ‘انٹرپرائز ڈویلپمنٹ پروگرام’ کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت چھ اضلاع کے 60 ہزار نوجوانوں کو مفت فنی تربیت دی جائے گی اور اپنا روزگار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ متبادل اور باعزت ذریعہ معاش حاصل کر سکیں۔
خارجی سازش اور تعلیمی اداروں کا تحفظ
حکومتی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں کی ماسٹر مائنڈنگ افغانستان میں مقیم بشیر ژب کر رہا ہے، جہاں امریکی انخلاء کے بعد چھوڑا گیا جدید اسلحہ اب بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے زیرِ استعمال ہے۔
مشیر وزیراعلیٰ میمونہ مجید نے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے اب تعلیمی اداروں کی طالبات کو خودکش حملوں کے لیے ورغلا رہی ہے۔ انہوں نے بی وائی سی کو بی ایل اے کا سیاسی چہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ حقوق کی آڑ میں نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کر رہا ہے۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ ترقی کے اس سفر میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا اور بلوچستان کا امن ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔
دیکھئیے:سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ اسلام آباد خودکش حملے کی سازش ناکام، کم عمر لڑکی خیرالنساء بازیاب