امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں طالبان کے خلاف قوانین کی تیاری؛ خواتین پر پابندیوں کو عالمی جرائم قرار دینے کی تجویز۔ امریکی فنڈز کو طالبان تک پہنچنے سے روکنے کے لیے امدادی طریقۂ کار میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

March 27, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی درخواست پر توانائی پلانٹس پر حملوں کا عمل 6 اپریل 2026 تک روکنے کا اعلان کر دیا۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کی متحرک سفارت کاری اور اسلام آباد کی ثالثی نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنا شروع کر دیے

March 27, 2026

قندوز میں ‘افغانستان آزادی محاذ’ کے جنگجوؤں نے طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملہ قندوز۔ خان آباد شاہراہ پر پانچویں سکیورٹی زون میں کیا گیا

March 27, 2026

امریکی رکنِ کانگریس ٹام سوازی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک اہم غیر جانبدار فریق ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی بریفنگ میں پاکستان کی عسکری قوت، جغرافیائی اہمیت اور اقتصادی سرمایہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال

March 27, 2026

وفاقی حکومت کا کم آمدن والے افراد کے لیے پٹرول سبسڈی اسکیم پر عملدرآمد کا فیصلہ؛ خصوصی موبائل ایپ ٹیسٹنگ مرحلے میں داخل۔ موٹر سائیکلز اور رکشوں کے لیے سستے پیٹرول کا کوٹہ مختص، جبکہ بڑی گاڑیوں کے لیے عالمی قیمتیں لاگو رہیں گی

March 27, 2026

لندن میں پاکستانی نژاد صحافی صفینہ خان کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد برطانوی حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ یہ دھمکی بھارتی اکاؤنٹ کی جانب سے دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے

March 27, 2026

پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے بھارتی وزیر خارجہ کی اصلیت کیا ہے ؟

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے پاکستان کے خلاف غیر پارلیمانی زبان کا استعمال ان کی بوکھلاہٹ اور سفارتی شکست کا آئینہ دار ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں نے مودی حکومت کو بری طرح پریشان کر دیا ہے، جس کا کریڈٹ پاکستانی سول و ملٹری قیادت کو جاتا ہے
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے پاکستان کے خلاف غیر پارلیمانی زبان کا استعمال ان کی بوکھلاہٹ اور سفارتی شکست کا آئینہ دار ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں نے مودی حکومت کو بری طرح پریشان کر دیا ہے، جس کا کریڈٹ پاکستانی سول و ملٹری قیادت کو جاتا ہے

جے شنکر کا پاکستان مخالف بیان بھارتی سفارتی تنہائی اور مودی ڈاکٹرائن کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ وکی لیکس اور بھارتی میڈیا کے انکشافات کے مطابق جے شنکر خود متنازع اور امریکہ نواز رہے ہیں، مگر اب اپنی فرسٹریشن کا غصہ پاکستان پر نکال رہے ہیں

March 27, 2026

سفارتکاری مہذب الفاظ کا کھیل ہوتی ہے۔ ڈپلومیٹک ورلڈ میں جنگیں بھی مسکراہٹ کے ساتھ لڑی جاتی ہیں اور سخت ترین پیغام بھی نرم ترین جملوں میں دیا جاتا ہے۔ مگر جب کسی ملک کا وزیر خارجہ سفارتی زبان چھوڑ کر گالی پر اتر آئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ وزیر اور اس کی حکومت شدید ترین شکست خوردگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ فرسٹریشن ان کی عقل اور میچورٹی پر غالب آ گئی۔ بھارتی وزیرخارجہ سبرامنیم جے شنکر بھی اسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں نے بھارت کی بی جے پی حکومت، وزیراعظم مودی اور ان کے وزیروں کو بری طرح سے پریشان کر دیا ہے۔ نفرت، تلخی، چڑچڑے پن اور تعصب کی ایسی آگ ہے جس نے وہاں نجانے کتنوں کو جھلسا کر رکھ دیا ہے۔ یہ نفرت اور تعصب بھارتی کھلاڑیوں، فنکاروں اور اساتذہ تک میں در آیا ہے۔ سیاستدان جو عام طور سے متحمل مزاج سمجھتے جاتے ہیں، بھارت میں وہ بھی بری طرح بوکھلائے ہوئے ہیں۔ بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر تو سیاستدان اب بنے ہیں، بنیادی طور پر تو وہ کیرئر ڈپلومیٹ ہیں، سیکرٹری خارجہ بھی رہے ۔ چالیس سالہ سفارتی تجربہ رکھنے والا شخص بھی اگر اپنی زبان پر قابو نہ رکھ پائے تو سمجھ لیجئے کہ یہ زوال کی آخری سطح ہے۔
گزشتہ روز بھارتی اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ میں جب انڈین خارجہ پالیسی پر تنقید ہوئی اور بھارت کی سفارتی تنہائی کی نشاندہی ہوئی تو وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے نہایت تحقیر آمیز انداز میں پاکستان کو دلال ریاست قرار دیا اور کہا کہ بھارت اس طرح کا کام نہیں کرتا۔ یہی جے شنکر پہلے بھی اس طرح کے حقارت آمیز رویے کا مظاہرہ کر چکےہیں، مگر اب تو حد ہی ہوگئی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ خود یہی جے شنکر بھارت میں ایک نہایت متنازع شخصیت رہے ہیں۔ ان پر بہت سے انڈین صحافی، تجزیہ کار اور کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وکی لیکس میں بھی کئی بار ان کا منفی حوالوں سے ذکر آیا۔ بھارت کی معروف ویب سائٹ دی وائر کی سپیشل رپورٹ کے مطابق جے شنکر ایک کیرئر ڈپلومیٹ ہونے کے ناتے کانگریسی وزیراعظم من موہن سنگھ کے فیورٹ تھے، وہ جے شنکر کو سیکرٹری خارجہ بنانا چاہ رہے تھے، مگر کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کا ایک گروپ پارٹی سربراہ سونیا گاندھی کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ جے شنکر جیسے ایک امریکہ نواز آفیسر کی تعیناتی سے ہندوستان کی غیر جانبدارانہ شبیہ متاثر ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ فیصلہ تقریباً ہوگیا تھا، مگر سونیا گاندھی نے مداخلت کی اور جے شنکر کی جگہ سجاتا سنگھ کو سیکرٹری خارجہ بنا دیا گیا۔ کانگریسی لیڈروں نے شکایت اس لئے کی تھی کہ وکی لیکس میں جے شنکر کا کئی جگہوں پر منفی حوالوں سے ذکر آیا تھا، جس نے ان کے حوالے سے شکوک پیدا کر دئیے تھے۔ انڈین میڈیا کے مطابق انیس سو اسی میں جب جے شنکر واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانہ میں تعینات تھے تو تب ہی امریکی انتظامیہ نے ان پر نظر کرم کی بارش شروع کر دی تھی۔ شائد سی آئی اے نے ایک “دوست” کے روپ میں ان کی شناخت کی تھی، اور بعد میں ان کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں بلاواسط طور پر خاصی مدد کی۔
دی وائر کے مطابق ،” دو ہزار چار سے دو ہزار سات تک جئے شنکر خارجہ آفس میں امریکہ ڈیسک کے انچارج تھے۔ وکی لیکس کے مطابق ان کا نام بار بار امریکہ سفارتی کیبلز ایک امریکہ حامی سفارت کار کے طور پر آتا رہا۔ پچیس اپریل دو ہزار پانچ کو دہلی میں چارج ڈی آفییرز رابرٹ بلیک نے واشنگٹن اپنے مراسلے میں لکھا کہ جئے شنکر نے ان کو بتایا ہے کہ حکومت ہند نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں کیوبا کے خلاف ووٹ دینا ہے۔ اسی طرح اسی سال انیس دسمبر کی ایک اور کیبل میں امریکی سفارت خانہ کا کہنا تھا کہ جئے شنکر نے ان کو خارجہ سکریٹری شیام سرن کے دورہ امریکہ کے ایجنڈہ کے بارے میں معلومات دی ہیں۔
“یعنی امریکی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں ہندوستانی موقف کی جانکاری خارجہ سکریٹری کے واشنگٹن پہنچنے سے قبل ہی امریکی انتظامیہ کو مل چکی تھی۔ مگر سب سے زیادہ ہوشربا معلومات بیجنگ میں امریکی سفارت خانہ نے واشنگٹن بھیجی۔ اس میں بتایا گیا کہ چین میں ہندوستان کے سفیر جئے شنکر نے چین کے ہمسایہ ممالک کے تئیں جارحارنہ رویہ کو لگام دینے کے لیے امریکہ کی معاونت کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یعنی ایک طرح سے وہ نئی دہلی میں حکومت کی رضامندی کے بغیر امریکہ کے ایک معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ایک اور کیبل میں اپریل دو ہزار پانچ میں رابرٹ بلیک لکھتے ہیں کہ گوانٹنامو بے کے معاملے پر ہندوستان، جنوبی ایشیائی ممالک کاسا تھ نہیں دےگا، جنہوں نے اقوام متحدہ میں ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا مشترکہ فیصلہ کیا تھا۔ اسکے علاوہ جئے شنکر نے ایک نان پیپر امریکی انتظامیہ کو تھما دیا تھا، جس میں تھائی لینڈ کے ایک سیٹلائٹ کی جانکاری تھی، جو ہندوستانی راکٹ کے ذریعے مدار میں جانے والا تھا۔”
یہاں اپنے قارئین کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ من موہن سنگھ نے جے شنکر کو نظرانداز کر کے سجاتا سنگھ کو سیکرٹری خارجہ بنا دیا تو لگا کہ شائد شنکر کا کیرئر ختم ہوگیا، مگر ان کے امریکی کنکشن نے انہیں پھر سے متعلق اور اہم بنایا۔ جے شنکر کو امریکہ میں بھارتی سفیر بنایا گیا اور وہاں شائد جے شنکر کو سرخرو کرنے کے لئے طاقتور امریکی لابی نے بھارت امریکہ نیوکلیئر ڈیل یقینی بنائی۔ اس کا صلہ جنوری دو ہزار پندرہ میں جے شنکر کو یہ دیا گیا کہ جیسے ہی امریکی صدر اوبامہ ڈیل پر دستخط کے بعد ہندوستان سے روانہ ہوئے، من موہن سنگھ نے سجاتا سنگھ کو معزول کر کے جے شنکر کو فوری طور پر سیکرٹری خارجہ بنا دیا گیا۔
ممتاز کشمیری صحافی افتخار گیلانی کی خصوصی رپورٹ کے مطابق جئے شنکر اس وقت امریکہ میں ہندوستان کے سفیر تھے اور اوبامہ کے دورہ کے سلسلے میں نئی دہلی آئے ہوئے تھے۔انہیں فی الفور رات کو ہی خارجہ آفس میں رپورٹ کرنے اور عہدہ سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔اس طرح غیر رسمی طور پر یا اکھڑ پن سے خارجہ سکریٹری کو معزول کرنے کا ہندوستان میں یہ دوسرا واقعہ تھا۔
امریکہ میں بطور سفیر جے شنکر نے بی جی پی حکومت کےساتھ بھی قریبی تعلقات بنائے، وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کو انہوں نے کامیاب بنایا اور بہت سی مقامی ہندو شخصیات کو اکھٹا کر کے مودی کو خوش کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میں نریندر مودی نے جے شنکر کووزیرخارجہ بنایا۔ برسوں پہلے ان کےایک سینئر سابق سیکرٹری خارجہ شیام ساران نے پیش گوئی کی تھی کہ جے شنکر وزارت خارجہ میں بااختیار بنے تو بھارت کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے۔ نیپال کے ساتھ بھارتی حکومت کے تعلقات خراب کرانے کا ذمہ دار جے شنکر ہی کو سمجھا جاتا ہے۔ اب ان کے رویے اور گھٹیا زہریلے بیانات سے یقینی طور پر پاک بھارت تعلقات میں مزید کشیدگی آئے گی۔
اسے ستم ظریفی ہی کہہ سکتے ہیں کہ جس شخص کے بارے میں خود اس کے ملک میں “امریکہ نواز” ہونے کی بحث موجود رہی ہو، وہ آج پاکستان کو “دلال ریاست” قرار دے رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ الزام کتنا سخت ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ الزام لگانے والے کا اپنا ریکارڈ اس کی تائید کرتا ہے؟
اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت خود آج کئی سوالات کی زد میں ہے۔ کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل کے الزامات ہوں یا امریکہ میں مبینہ سازشوں کی خبریں، دنیا اب بیانات سے زیادہ کردار کو دیکھ رہی ہے۔ ایسے میں دہلی سے آنے والی جارحانہ زبان دراصل اعتماد نہیں بلکہ ایک طرح کی سفارتی بے چینی کی علامت محسوس ہوتی ہے۔
جے شنکر نے ایسا بیان دے کر بھارتی زوال کو نمایاں کیا ہے، مگر پاکستان کو ردعمل میں نہیں بلکہ کردار میں برتری دکھانی ہوگی۔ دنیا کے سامنے اپنی سنجیدگی، اپنے مؤقف اور اپنی قربانیوں کو پیش کرنا ہی اصل جواب ہے۔تاریخ ہمیشہ کردار کو یاد رکھتی ہے۔ جے شنکر کا بیان دراصل اس سفارتکاری کے زوال کا اعتراف ہے جو کبھی وقار، توازن اور سنجیدگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مودی ڈاکٹرائن کی ناکامی سے بھارتی حکومت اور اس کے وزرا کس قدر دلبرداشتہ ، پریشان اور حواس باختہ ہوچکے ہیں۔ اس کا کریڈٹ پاکستانی سول ملٹری قیادت کو دینا بنتا ہے، ان کی وجہ سے بھارت کا یہ حال ہوا ہے۔

دیکھیے: بھارت کی جارحانہ پالیسی بے نقاب، لندن میں صحافی صفینہ خان کو قتل کی سنگین دھمکیاں

متعلقہ مضامین

امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں طالبان کے خلاف قوانین کی تیاری؛ خواتین پر پابندیوں کو عالمی جرائم قرار دینے کی تجویز۔ امریکی فنڈز کو طالبان تک پہنچنے سے روکنے کے لیے امدادی طریقۂ کار میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

March 27, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی درخواست پر توانائی پلانٹس پر حملوں کا عمل 6 اپریل 2026 تک روکنے کا اعلان کر دیا۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کی متحرک سفارت کاری اور اسلام آباد کی ثالثی نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنا شروع کر دیے

March 27, 2026

قندوز میں ‘افغانستان آزادی محاذ’ کے جنگجوؤں نے طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملہ قندوز۔ خان آباد شاہراہ پر پانچویں سکیورٹی زون میں کیا گیا

March 27, 2026

امریکی رکنِ کانگریس ٹام سوازی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک اہم غیر جانبدار فریق ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی بریفنگ میں پاکستان کی عسکری قوت، جغرافیائی اہمیت اور اقتصادی سرمایہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال

March 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *