"> خواجہ آصف کے بیان پر سنسنی خیز پروپیگنڈا: خواجہ آصف کی گفتگو ایک سفارتی امکان تھی، کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں؛ عوام گمراہ کن مہم سے ہوشیار رہے - HTN Urdu خواجہ آصف کے بیان پر سنسنی خیز پروپیگنڈا: خواجہ آصف کی گفتگو ایک سفارتی امکان تھی، کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں؛ عوام گمراہ کن مہم سے ہوشیار رہے
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خواجہ آصف کے بیان پر سنسنی خیز پروپیگنڈا: خواجہ آصف کی گفتگو ایک سفارتی امکان تھی، کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں؛ عوام گمراہ کن مہم سے ہوشیار رہے

انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف

خواجہ آصف نے ایوان میں اپنی گفتگو کے دوران محض خطے کے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا

May 13, 2026

اسلام آباد: سوشل میڈیا پر وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے قومی اسمبلی میں دیے گئے حالیہ بیان کو بنیاد بنا کر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ ترکی اور قطر کسی نئے باضابطہ دفاعی اتحاد یا معاہدے کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ تمام خبریں محض سنسنی خیزی اور پروپیگنڈا پر مبنی ہیں کیونکہ وزیرِ دفاع نے کسی عملی فیصلے یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

خواجہ آصف نے ایوان میں اپنی گفتگو کے دوران محض خطے کے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سفارت کاری میں مختلف آپشنز، علاقائی تعاون کے ممکنہ فریم ورک اور مشاورت ایک معمول کی سرگرمی ہوتی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی عملی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ اور محتاط ہوتے ہیں اور کسی بھی بڑے اتحاد کی تشکیل کے لیے طویل سفارتی عمل درکار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض حلقوں کی جانب سے ہر بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد محض سیاسی فوائد حاصل کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے حساس سفارتی بیانات پر سنسنی پھیلانا ملک کے خارجہ تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیرِ دفاع کے بیان کو اس کے درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے نہ کہ اسے کسی فوری دفاعی اتحاد کی خبر بنا کر پیش کیا جائے۔ فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ابھی دلی بہت دور ہے۔

دیکھئیے:افغان حکومت بھارت کی پراکسی بن چکی ہے، کابل کو دہلی جیسا ردعمل مل سکتا ہے، خواجہ آصف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *