اسلام آباد: سوشل میڈیا پر وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے قومی اسمبلی میں دیے گئے حالیہ بیان کو بنیاد بنا کر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ ترکی اور قطر کسی نئے باضابطہ دفاعی اتحاد یا معاہدے کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ تمام خبریں محض سنسنی خیزی اور پروپیگنڈا پر مبنی ہیں کیونکہ وزیرِ دفاع نے کسی عملی فیصلے یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا تھا۔
خواجہ آصف نے ایوان میں اپنی گفتگو کے دوران محض خطے کے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سفارت کاری میں مختلف آپشنز، علاقائی تعاون کے ممکنہ فریم ورک اور مشاورت ایک معمول کی سرگرمی ہوتی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی عملی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ اور محتاط ہوتے ہیں اور کسی بھی بڑے اتحاد کی تشکیل کے لیے طویل سفارتی عمل درکار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض حلقوں کی جانب سے ہر بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد محض سیاسی فوائد حاصل کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے حساس سفارتی بیانات پر سنسنی پھیلانا ملک کے خارجہ تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیرِ دفاع کے بیان کو اس کے درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے نہ کہ اسے کسی فوری دفاعی اتحاد کی خبر بنا کر پیش کیا جائے۔ فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ابھی دلی بہت دور ہے۔
دیکھئیے:افغان حکومت بھارت کی پراکسی بن چکی ہے، کابل کو دہلی جیسا ردعمل مل سکتا ہے، خواجہ آصف