"> انمول پنکی کیس: گرفتاری کراچی پولیس کی، تو جواب دہی اے این ایف سے کیوں؟ سینیٹ کمیٹی کی کارروائی پر سوالات اٹھ گئے - HTN Urdu انمول پنکی کیس: گرفتاری کراچی پولیس کی، تو جواب دہی اے این ایف سے کیوں؟ سینیٹ کمیٹی کی کارروائی پر سوالات اٹھ گئے
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

انمول پنکی کیس: گرفتاری کراچی پولیس کی، تو جواب دہی اے این ایف سے کیوں؟ سینیٹ کمیٹی کی کارروائی پر سوالات اٹھ گئے

سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کی جانب سے ڈی جی اے این ایف کو طلب کرنا قانونی منطق سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی، جس کی سربراہی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے فیصل سلیم کر رہے ہیں، کی جانب سے ایک ایسے ادارے کو جوابدہی کے لیے بلانا جو کیس کا مدعی ہے نہ تفتیشی، کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
انمول پنکی کیس

کسی غیر متعلقہ ادارے کو سیاسی کٹہرے میں کھڑا کرنا نہ تو انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی پارلیمانی احتساب کے اعلیٰ معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

May 13, 2026

کراچی: انمول عرف پنکی کا کیس ان دنوں میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے، تاہم حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہ بنیادی طور پر کراچی پولیس کا کیس ہے اور اس کا اے این ایف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتاری سے لے کر تفتیش اور چالان تک کا تمام عمل پولیس کے دائرہ اختیار میں مکمل کیا جا رہا ہے۔ ملزمہ کو کراچی گارڈن پولیس نے گرفتار کیا اور ساؤتھ پولیس نے عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ حاصل کیا، جس میں اے این ایف کا کوئی قانونی کردار سامنے نہیں آیا۔

اس صورتحال میں سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کی جانب سے ڈی جی اے این ایف کو طلب کرنا قانونی منطق سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی، جس کی سربراہی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے فیصل سلیم کر رہے ہیں، کی جانب سے ایک ایسے ادارے کو جوابدہی کے لیے بلانا جو کیس کا مدعی ہے نہ تفتیشی، کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی ادارہ پراسیکیوشن کا حصہ ہی نہیں تو اسے پارلیمانی کمیٹی میں بلانا محض سیاسی تاثر سازی اور ادارہ جاتی کنفیوژن پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

احتساب کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ درست ادارے سے درست سوال کیا جائے تاکہ اصل تفتیشی عمل سے توجہ نہ ہٹے۔ اگر کسی کو کیس کی شفافیت، گرفتاری یا تفتیش کے طریقہ کار پر اعتراض ہے تو اسے متعلقہ پولیس ریکارڈ، ایف آئی آر اور تفتیشی افسر سے جواب طلبی کرنی چاہیے۔ کسی غیر متعلقہ ادارے کو سیاسی کٹہرے میں کھڑا کرنا نہ تو انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی پارلیمانی احتساب کے اعلیٰ معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انمول پنکی کیس میں تمام مراحل پولیس کے دائرہ اختیار میں چل رہے ہیں، لہذا اے این ایف کو اس معاملے میں گھسیٹنا غیر ضروری اور غیر منطقی ہے۔ پارلیمانی فورمز کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی اور قانونی درستگی کے ساتھ کام کریں تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔ صرف سیاسی شور یا میڈیا دباؤ کی بنیاد پر ایک ادارے کی ذمہ داری دوسرے کے کھاتے میں ڈالنا ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے جو نظامِ عدل میں ابہام پیدا کرتا ہے۔

دیکھئیے:قومی اسمبلی یا سیاسی سرکس؟ قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے پر پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا، جنید اکبر اور اقبال آفریدی کے درمیان ہاتھا پائی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *