امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں طالبان کو خواتین کے حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی امداد کے مبینہ غلط استعمال پر جوابدہ بنانے کے لیے نئی قانون سازی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ان کا مقصد 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے ذمہ داروں کا تعین کرنا اور طالبان تک پہنچنے والی مالی معاونت کے راستے مسدود کرنا ہے۔
خواتین پر مظالم اور احتساب
امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ نے ایک اہم بل پیش کیا ہے جس میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت امریکی محکمہ خارجہ پابند ہوگا کہ وہ طالبان کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اس بات کی جانچ کرے کہ آیا مذکورہ اقدامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں یا عالمی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ برائن ماسٹ کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد نہ صرف احتساب کو مضبوط بنانا ہے بلکہ امریکہ میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے تجربات کو بھی اجاگر کرنا ہے جو تعلیمی پابندیوں کا شکار بنے۔
US Lawmakers Push Bills to Hold Taliban Accountable Over Women’s Rights and Funding
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) March 26, 2026
US House Foreign Affairs Committee Chairman Brian Mast criticized the Taliban’s treatment of women and girls in Afghanistan, linking it to ongoing suffering since the 2021 US withdrawal. He… pic.twitter.com/ZIv4WZ7ej4
امدادی فنڈز کی نگرانی اور بل
دوسری جانب امریکی سینیٹ کی جانب سے ایک ایسے بل کی حمایت کی گئی ہے جس کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کے فنڈز کو طالبان کے ہاتھوں میں پہنچنے سے روکنا ہے۔ اس بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ 2021 کے بعد افغانستان کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی امداد سے بالواسطہ طور پر طالبان کو فائدہ پہنچا ہے۔ نئی تجویز کے مطابق ایسی غیر ملکی امداد کو سختی سے محدود کیا جائے گا جو کسی بھی صورت میں اس گروہ کی مالی مضبوطی کا باعث بن سکتی ہو۔ سینیٹ میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد اور سیاسی فوائد کے درمیان واضح لکیر کھینچی جائے۔
افغان انخلاء کے بعد کا انسانی بحران
امریکی قانون سازوں نے 2021 کے انخلاء کو موجودہ انسانی بحران کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو بین الاقوامی برادری کے سامنے جوابدہ بنانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان خواتین کو تعلیم اور روزگار کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کرتے، انہیں کسی بھی قسم کی عالمی رعایت یا مالی سہولت نہیں ملنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بلز قانون بن جاتے ہیں تو کابل حکومت پر سفارتی اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں کمی: صدر ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملے 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان