مشرقِ وسطیٰ اس وقت بارود کے ایک ایسے دہکتے ہوئے ڈھیر پر کھڑا ہے جہاں ایک معمولی سی لغزش بھی تیسری عالمی جنگ کے شعلوں کو بھڑکا سکتی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے استحکام کو متزلزل کیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور امنِ عامہ کو بھی ایک سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ان حالات میں جب سفارت کاری کے روایتی راستے مسدود نظر آ رہے تھے، پاکستان کا ایک ‘کلیدی ثالث’ کے طور پر ابھرنا بین الاقوامی سیاست کے افق پر ایک غیر متوقع مگر نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ اسلام آباد نے جس مہارت کے ساتھ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘خاموش سفارت کاری’ کا آغاز کرتے ہوئے ایک ‘مواصلاتی پل’ کا کردار سنبھالا ہے، وہ پاکستان کی منجھی ہوئی خارجہ پالیسی اور اس کی تزویراتی اہمیت کا بین ثبوت ہے۔
پاکستان کی یہ حالیہ سفارتی متحرک کوئی وقتی یا اتفاقی واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کا وہ دہائیوں پر محیط تجربہ اور بین الاقوامی اعتبار کارفرما ہے جو اسے خطے کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو پاکستان کا ریکارڈ ایسی حساس اور اعلیٰ سطحی سہولت کاری سے بھرا پڑا ہے۔ 1972 میں جب دنیا سرد جنگ کے حصار میں تھی، تب اس وقت کے پاکستانی صدر یحییٰ خان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ رابطوں کے لیے وہ بنیاد فراہم کی تھی جس نے صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورہ چین کی راہ ہموار کی اور عالمی سیاست کا رخ بدل دیا۔ اسی طرح 1988 کا جنیوا معاہدہ ہو، جس کے تحت سوویت افواج کا افغانستان سے انخلا ممکن ہوا، یا حالیہ برسوں میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے دوحہ مذاکرات پاکستان نے ہمیشہ ایک ایسے بااعتماد سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے جس پر عالمی طاقتیں مشکل وقت میں بھروسہ کرتی آئی ہیں۔
آج جب مشرقِ وسطیٰ کے روایتی ثالث جیسے عمان اور قطر، سنگین علاقائی دباؤ اور تزویراتی مجبوریاں کا شکار ہیں، پاکستان کی جغرافیائی قربت اور اس کے متوازن تعلقات نے اسے ایک ناگزیر فریق بنا دیا ہے۔ تہران کے ساتھ برادرانہ اور جغرافیائی وابستگی اور واشنگٹن کے ساتھ دہائیوں پر محیط عسکری و سفارتی شراکت داری نے اسلام آباد کو وہ منفرد مقام عطا کیا ہے کہ وہ دونوں دارالحکومتوں کے درمیان بالواسطہ پیغامات کی ترسیل کا سب سے معتبر ذریعہ بن گیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کہ ترکی اور مصر بھی اس عمل میں پاکستان کی معاونت کر رہے ہیں، اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ ایک وسیع البنیاد سفارتی مشن ہے جس کا مقصد خطے کو ایک بڑے المیے سے بچانا ہے۔ اس ‘خاموش سفارت کاری’ کے ثمرات اب واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کی دھمکیوں میں آنے والی حالیہ نرمی اور تہران کا محتاط ردعمل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہونے والی گفتگو میدانِ جنگ کی تپش کو کم کر رہی ہے۔
تاہم یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ پاکستان کا یہ کردار محض عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ درحقیقت، اس ثالثی کے پیچھے پاکستان کے اپنے گہرے معاشی اور قومی مفادات وابستہ ہیں۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی معاشی شہ رگ مشرقِ وسطیٰ کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک خلیجی ممالک کے تیل پر انحصار کرتے ہیں اور وہاں مقیم 50 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی وسیع جنگ کا مطلب عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان کے عام شہری پر مہنگائی کے طوفان کی صورت میں پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا 20 فیصد اضافہ اس تلخ حقیقت کا محض ایک پیش خیمہ ہے۔ لہٰذا، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنا پاکستان کے اپنے معاشی اور داخلی استحکام کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ بھی کم نہیں۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ سرحد پار سکیورٹی اور گیس پائپ لائن جیسے حساس معاملات ہیں۔ پاکستان کو نہایت احتیاط کے ساتھ اس ‘سفارتی تنی ہوئی رسی’ پر چلنا ہوگا تاکہ کسی ایک فریق کی حمایت کا تاثر نہ ابھرے بلکہ ایک غیر جانبدار اور مخلص ثالث کی تصویر برقرار رہے۔ ترکی اور مصر کی شمولیت اس عمل کو بین الاقوامی ساکھ فراہم کر رہی ہے، جو کہ پاکستان کی تنہائی پسندی کے تاثر کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ محض ایک ایٹمی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست ہے جو عالمی امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستانی قیادت اس سفارتی پیش رفت کو صرف وقتی جنگ بندی تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے ایک مستقل علاقائی تعاون کے فریم ورک میں بدلنے کی کوشش کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ مکالمہ وہ واحد راستہ ہے جو اقوام کو بقا اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان نے امن کی اس شمع کو روشن کر دیا ہے، اب عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور مشرقِ وسطیٰ کو خونریزی کے ایک نئے چکر سے بچائیں۔