"> افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی کا انکشاف: ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کابل کے ‘گرین زون’ میں روپوش - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی کا انکشاف: ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کابل کے ‘گرین زون’ میں روپوش

کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کابل کے سفارتی انکلیو کی کثیر المنزلہ عمارت میں منتقل۔ انسانی ڈھال کے استعمال اور افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی پر سکیورٹی حکام کا اظہارِ تشویش
کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کابل کے سفارتی انکلیو کی کثیر المنزلہ عمارت میں منتقل۔ انسانی ڈھال کے استعمال اور افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی پر سکیورٹی حکام کا اظہارِ تشویش

تحریک طالبان پاکستان کے امیر نور ولی محسود کی کابل میں موجودگی کے حوالے سے اہم ذرائع کا دعویٰ

March 27, 2026

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ اس وقت افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی میں کابل کے انتہائی محفوظ ترین علاقے ‘گرین زون’ یا سفارتی انکلیو میں مقیم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محسود کابل کے اس حساس علاقے کی ایک کثیر المنزلہ عمارت میں روپوش ہیں، جہاں اہم حکومتی دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے بھی واقع ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جس عمارت میں نور ولی محسود مقیم ہیں، وہاں دیگر عام افراد اور عملے کی موجودگی کو مبینہ طور پر ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد محسود کی حفاظت کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ ٹارگٹڈ فضائی یا زمینی کارروائی کو روکنا ہے، کیونکہ سفارتی انکلیو جیسے حساس علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت عالمی سطح پر پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

افغان طالبان کے کردار پر سوالات

سکیورٹی حکام نے اس پیش رفت کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کے سب سے زیادہ محفوظ مقام پر ٹی ٹی پی قیادت کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان حکومت عسکری عناصر کو نہ صرف سہولت کاری فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں بھی میسر ہیں۔ یہ صورتحال اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ پاکستان مسلسل افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

علاقائی سلامتی پر اثرات

ماہرین کا ماننا ہے کہ کابل کے مرکز میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ اگر ان اطلاعات کی آزادانہ ذرائع سے مزید تصدیق ہوتی ہے، تو یہ بین الاقوامی سطح پر کابل حکومت کے ان وعدوں کی نفی ہوگی جن میں انہوں نے افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا یقین دلایا تھا۔

دیکھیے: پاکستان سے اختلافات ختم کیا جائے، ورنہ افغانستان تنہا رہ جائے گا: افغان وزیر

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *