بیجنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والے انتہائی اہم سربراہی اجلاس سے چند ہفتے قبل چین نے امریکہ کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف دو نئی تحقیقات کا آغاز کر کے عالمی تجارتی جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ جمعہ کے روز سامنے آنے والے اس اقدام کو ماہرین واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے اور مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ایک سچی تزویراتی چال قرار دے رہے ہیں۔
تجارتی دفاع
چین کی وزارتِ تجارت کے مطابق یہ تحقیقات امریکہ کی ان حالیہ تجارتی کارروائیوں کا جواب ہیں جن کے نتیجے میں چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات محض جوابی نہیں بلکہ اپنے قومی تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ چین کی جانب سے ان تحقیقات کا مقصد امریکی تجارتی پریکٹسز میں مبینہ بے ضابطگیوں کو سامنے لانا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تناؤ میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
سربراہی اجلاس
صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات 14 سے 15 مئی کو بیجنگ میں طے ہے، اور اس سے ٹھیک پہلے ان تحقیقات کا آغاز کرنا بیجنگ کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین اس اقدام کے ذریعے امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ کسی بھی یکطرفہ تجارتی کارروائی کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا اور اس کے پاس واشنگٹن کے خلاف موثر جوابی ہتھیار موجود ہیں۔ یہ تحقیقات مئی میں ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
عالمی منڈیوں پر اثرات
امریکہ اور چین کے درمیان اس نئی چپقلش نے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تصادم سپلائی چین اور عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں مئی میں ہونے والے ‘ٹرمپ–شی’ اجلاس پر جمی ہیں کہ آیا دونوں رہنما ان بڑھتے ہوئے تجارتی تنازعات کا کوئی سفارتی حل نکال پاتے ہیں یا یہ ‘تجارتی جنگ’ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔