کراچی: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تجارتی راستوں میں تبدیلی نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی اور لاجسٹک ہب کے طور پر ابھار دیا ہے، جہاں بندرگاہی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
کاروباری جریدوں کے مطابق کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف 24 دنوں میں کراچی پورٹ پر 8313 کنٹینرز کی ہینڈلنگ ہوئی، جو 2025 کے پورے سال کے برابر ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیج عرب میں شپنگ رکاوٹوں کے باعث جہازوں کے روٹس تبدیل ہوئے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی بندرگاہیں متبادل مرکز کے طور پر سامنے آئیں۔ جنوبی ایشیا پاکستان ٹرمینل نے 5286 جبکہ ہچیسن پورٹ نے 1827 کنٹینرز کی ترسیل مکمل کی، جبکہ کراچی گیٹ وے ٹرمینل پر بھی 1200 کنٹینرز ہینڈل کیے گئے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال پاکستان کیلئے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ خود کو مستقل ٹرانس شپمنٹ اور تجارتی مرکز کے طور پر منوائے، خصوصاً جب دنیا متبادل محفوظ راستوں کی تلاش میں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور جدید بندرگاہی انفرااسٹرکچر پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط لاجسٹک ہب بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ اس پیشرفت سے ملکی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
دیکھئیے:پاکستان چین رابطہ، مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر اتفاق؛ اسلام آباد ممکنہ سفارتی مرکز