پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو مجموعی طور پر 1 ارب 20 کروڑ ڈالرز کی قسط ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں پاکستان کی حالیہ معاشی اصلاحات، مہنگائی میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کی کوششوں کی تعریف کی گئی ہے، تاہم یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستانی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
مالیاتی اہداف
آئی ایم ایف نے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنے اور ضرورت پڑنے پر شرحِ سود میں مزید اضافے کے امکان کا تذکرہ کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026ء میں 1.6 فیصد اور مالی سال 2027ء میں اسے بڑھا کر 2 فیصد تک لے جانے کا پرائمری سرپلس ہدف مقرر کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ایف بی آر میں اصلاحات لانے اور اخراجات کو کنٹرول کرنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے تاکہ مالیاتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔ حکومت نے مارکیٹ میں اپنی مداخلت کم کرنے، سرکاری اداروں کی نجکاری کو تیز کرنے اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
موسمیاتی اصلاحات پر توجہ
سماجی تحفظ کے حوالے سے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ غریب عوام پر مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع اور نقد امداد میں اضافے کے ساتھ ادائیگیوں کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے بجٹ میں اضافے کا عزم دہرایا ہے جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر بھی کام جاری ہے۔
مزید برآں آئی ایم ایف نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے گرین ٹرانسپورٹ، کاربن اخراج میں کمی اور پانی کے انتظام کی بہتری جیسے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ پاکستان کے موسمیاتی اہداف کو توانائی کی اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے ۔