وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک گھنٹے سے زائد طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں علاقائی کشیدگی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور خاص طور پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس مشکل گھڑی میں ایران کے بہادر عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور حالیہ حملوں میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں اور بے گھر افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی صدر کو پاکستان کی جانب سے جاری متحرک سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ سمیت برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانا اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں امن کے فروغ اور سہولت کاری کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔
علاقائی امن کے لیے عزم
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی برادری کا متحرک ہونا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ ایرانی صدر نے پاکستان کے اس برادرانہ مؤقف اور سفارتی تعاون کو اہمیت دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور مشاورت کے تسلسل کی ضرورت پر تاکید کی۔