"> امریکا ایران میں زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے، جلد ایران سے نکل جائیں گے ؛ امریکی نائب صدر - HTN Urdu امریکا ایران میں زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے، جلد ایران سے نکل جائیں گے ؛ امریکی نائب صدر
مددگار یا مکار؟ ایجوکیشن کنسلٹنٹ یا فراڈ کا ماہر؟

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

امریکا ایران میں زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے، جلد ایران سے نکل جائیں گے ؛ امریکی نائب صدر

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
امریکی نائب صدر کا ایران سے نکلنے کا ارادہ

امریکا کا بنیادی مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں اور اس کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو کمزور کرنا تھا، جس میں نمایاں پیش رفت حاصل ہو چکی ہے

March 29, 2026

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں اپنے زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور جلد وہاں سے انخلا کی جانب بڑھے گا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ صورتحال کو کچھ عرصہ مزید کنٹرولڈ انداز میں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں اور اس کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو کمزور کرنا تھا، جس میں نمایاں پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کی حکومت کو “شدید کمزور” دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے، تاہم اس مقصد کیلئے طویل المدتی جنگ کے بجائے اسٹریٹجک دباؤ اور محدود کارروائیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

امریکی نائب صدر نے اعتراف کیا کہ اس تنازع کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال نے سپلائی چین پر دباؤ ڈالا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال بہتر ہونے پر قیمتیں بتدریج کم ہو جائیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے “اہداف حاصل ہونے” کا دعویٰ دراصل ایک اسٹریٹجک سگنل ہے، جس کے ذریعے واشنگٹن کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے محدود رکھنے کا پیغام دے رہا ہے، جبکہ عالمی دباؤ، توانائی بحران اور خطے میں وسیع جنگ کے خدشات بھی اس پالیسی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا انخلا کا عندیہ دے رہا ہے، تاہم خطے میں اس کی فوجی موجودگی مکمل طور پر ختم ہونے کے امکانات کم ہیں، اور مستقبل میں بھی یہ “اوور دی ہورائزن” صلاحیت کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھ سکتا ہے۔

دیکھئیے:مشرق وسطیٰ کشیدگی پر اہم سفارتی سرگرمی: مصری وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو

متعلقہ مضامین

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

October 17, 2026

جنرل سید عامر رضا نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے تیار ہے۔

October 17, 2026

چاغی کے علاقے دالبندین میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 مطلوب دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

October 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *