...
مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

اماراتی وزیر خارجہ نے بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کے حل کیلئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی

March 29, 2026

عدالت کا یہ نکتہ کہ عورت گھر سنبھال کر مرد کی معاشی ترقی میں معاون بنتی ہے، اخلاقی طور پر وزن رکھتا ہے، مگر کیا اسے ایک عمومی قانونکی شکل دی جا سکتی ہے؟ ہمارا معاشرہ ایک متنوع سماجی ڈھانچہ رکھتا ہے۔ یہاں ایسی بے شمار شادیاں موجود ہیں جو جبری طور پر یا محض خاندانی دباؤ میں طے پاتی ہیں، جہاں اکثر میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پہلے دن سے ہی مفقود ہوتی ہے۔

March 29, 2026

ایران جنگ کے خلاف امریکا میں تاریخی احتجاج، 70 لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں
ٹرمپ کے خلاف ایران جنگ پر احتجاج

“نو کنگز” کے عنوان سے ہونے والے ان مظاہروں میں شہریوں نے جنگ کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، جبکہ نیویارک سمیت بڑے شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

March 29, 2026

واشنگٹن: ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے خلاف امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جن میں مبینہ طور پر 70 لاکھ افراد نے شرکت کی، جسے حالیہ تاریخ کے بڑے عوامی ردعمل میں شمار کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق “نو کنگز” کے عنوان سے ہونے والے ان مظاہروں میں شہریوں نے جنگ کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، جبکہ نیویارک سمیت بڑے شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

نیویارک میں ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کرپٹ قیادت کو اپنے مفادات کیلئے جنگیں مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

رپورٹس کے مطابق مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں، جنہیں منتظمین امریکی تاریخ کے بڑے ترین احتجاجی مظاہروں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل میں بھی ایران کے خلاف جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے، جہاں تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں شہریوں نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال بھی کیا۔

عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اٹلی، فرانس، اسپین، جرمنی، نیدرلینڈز اور آسٹریلیا میں “نو کنگز” کے تحت احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے نہ صرف امریکا میں سیاسی دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

دیکھئیے:امریکا ایران میں زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے، جلد ایران سے نکل جائیں گے ؛ امریکی نائب صدر

متعلقہ مضامین

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

اماراتی وزیر خارجہ نے بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کے حل کیلئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی

March 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.