...
پاکستان کی کارروائیاں مخصوص معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت، ٹھکانوں اور فائرنگ پوزیشنز کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کو

March 29, 2026

ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کسی بھی جبر و تشدد کے بغیر ایک باقاعدہ آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں مقامی قیادت، شاهي جرگہ اور نمائندہ اداروں نے شرکت کی

March 29, 2026

ایسے فورمز پر سرگرم عناصر نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتے ہیں بلکہ ملک کے اندر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں، جس سے بیرونی بیانیوں کو تقویت ملتی ہے۔

March 29, 2026

بلوچستان ملک کا ایک آئینی اور جغرافیائی حصہ ہے، جہاں سیاسی عمل جاری ہے اور عوامی نمائندگی موجود ہے۔ مختلف ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور علاقائی رابطہ کاری کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچستان کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔

March 29, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے حالیہ بحران میں سعودی قیادت کے تحمل اور دانشمندانہ طرز عمل کو سراہا

March 29, 2026

اس ملاقات کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔

March 29, 2026

جنیوا اور ہلسنکی میں بلوچستان پر بحث: علیحدگی پسند بیانیہ, مقررین کے الزامات پر ماہرین کا مؤقف سامنے آگیا

ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کسی بھی جبر و تشدد کے بغیر ایک باقاعدہ آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں مقامی قیادت، شاهي جرگہ اور نمائندہ اداروں نے شرکت کی
جنیوا بلوچستان کانفرنس

دہشت گردی، سکیورٹی چیلنجز اور شدت پسند گروہوں کے کردار کو نظر انداز کر کے صرف ایک رخ کو اجاگر کرنا حقیقت کو مسخ کرتا ہے، جبکہ اقوام متحدہ خود پاکستان کی خودمختاری کو تسلیم کر چکا ہے۔

March 29, 2026

مقررین کے تفصیلی دعوے اور پاکستان کا مؤقف، پروپیگنڈا یا زمینی حقیقت؟

اسلام آباد: 27 مارچ کو یورپ میں بلوچستان کے موضوع پر منعقد ہونے والی کانفرنسز میں مقررین نے پاکستان کے خلاف ایک منظم اور تفصیلی بیانیہ پیش کیا، جس میں تاریخی حقائق، انسانی حقوق اور سیاسی مؤقف کو ایک خاص زاویے سے بیان کیا گیا اور تصویر کا ادھورا اور مسخ شدہ رخ دنیا کو دکھایا گیا۔ تاہم ان بیانات کا تفصیلی جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تقاریر نہ صرف یکطرفہ تھیں بلکہ کئی اہم حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مخصوص ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ: “78 سالہ قبضہ” کا بیانیہ

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ بلوچستان گزشتہ “78 سال سے ایک مقبوضہ خطہ” ہے اور وہاں “نسل کشی” جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کیا گیا ہے اور عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں اور پاکستان کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

ماہرین اس بیانیے کی تردید کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کسی بھی جبر و تشدد کے بغیر ایک باقاعدہ آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں مقامی قیادت، شاهي جرگہ اور نمائندہ اداروں نے شرکت کی۔ اسے “قبضہ” قرار دینا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبے، سیاسی نمائندگی اور صوبائی خودمختاری اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ وہاں مکمل محرومی ہے۔

انا لورینا ڈیلاگیڈیلو کا بیان: جبری گمشدگیوں کا معاملہ

انا لورینا ڈیلاگیڈیلو نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے اس حوالے سے پاکستان کو شکایات بھی بھیجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد بلوچستان سے متعلق ہے، جبکہ متاثرین کے اہلِ خانہ کو انصاف اور معلومات تک رسائی نہیں ملتی۔ ان کے مطابق یہ واقعات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں اور بہت سے کیسز خوف اور دباؤ کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف یکطرفہ اور غیر متوازن ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا ایسے پلیٹ فارم پر جانا، جو بلوچ نیشنل موومنٹ جیسے گروہ کے زیر اہتمام ہو، غیر جانبداری پر سوال اٹھاتا ہے۔ مزید یہ کہ “الزامی خطوط” کو حتمی شواہد کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، جبکہ پاکستان میں اس معاملے پر کمیشن فعال ہے اور متعدد کیسز میں پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی، سکیورٹی چیلنجز اور شدت پسند گروہوں کے کردار کو نظر انداز کر کے صرف ایک رخ کو اجاگر کرنا حقیقت کو مسخ کرتا ہے، جبکہ اقوام متحدہ خود پاکستان کی خودمختاری کو تسلیم کر چکا ہے۔

مرسے مونجے کانو: حقِ خودارادیت کا مطالبہ

مرسے مونجے کانو نے اپنے خطاب میں بلوچستان اور سندھ کو “غیر نمائندگی یافتہ اقوام” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں ریاستی و بین الاقوامی سطح پر فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “حقِ خودارادیت سے محرومی ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ ہے” اور بلوچستان میں مبینہ طور پر وسائل کے استحصال، ثقافتی محرومی اور سیاسی عدم شمولیت جیسے مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی نظام ریاستوں پر مبنی ہے جس میں ایسی اقوام کو مناسب نمائندگی نہیں ملتی، اور یہی “ساختی ناانصافی” بلوچستان جیسے علاقوں میں مسائل کو جنم دیتی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف حقائق سے ہٹ کر اور یکطرفہ ہے۔ پاکستان میں بلوچستان ایک آئینی صوبہ ہے جہاں منتخب نمائندگی، صوبائی خودمختاری اور مقامی ثقافت کے تحفظ کے لیے اقدامات موجود ہیں، اس لیے “غیر نمائندگی” کا دعویٰ درست نہیں۔ مزید یہ کہ متعدد نام نہاد “لاپتہ افراد” بعد میں شدت پسند گروہوں سے وابستہ یا ملک سے فرار ہوتے ہوئے پائے گئے، جسے نظر انداز کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرسے مونجے کانو کا بیان واضح دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بلوچستان کے الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں دستاویزی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ پہلے ہی پاکستان کی خودمختاری کی توثیق کر چکا ہے، اس کے باوجود ایسے بیانات دراصل بلوچ نیشنل موومنٹ کے اس بیانیے کو تقویت دیتے ہیں جو کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے نظریاتی دائرے سے جڑا سمجھا جاتا ہے اور عالمی سطح پر ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ: ریاستی ڈھانچے پر تنقید

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کے عسکری اور سیاسی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ بلوچستان میں مسائل کی جڑ ریاستی پالیسیوں میں ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس مؤقف میں سکیورٹی چیلنجز، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت جیسے عوامل کو نظر انداز کیا گیا۔ بلوچستان میں سکیورٹی آپریشنز کا مقصد سیاسی جبر ہرگز نہیں ہے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ ہے۔

منظور پشتین اور دیگر مقررین: مشترکہ بیانیہ

منظور پشتین، ڈاکٹر ہدایت بھٹو، ڈاکٹر نصیر دشتی اور دیگر مقررین نے بھی اسی نوعیت کے نکات دہرائے، جن میں ریاستی جبر، سیاسی محرومی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر شامل تھا۔

بین الاقوامی مقررین جیسے اینڈی ورماوٹ اور گیری کارٹ رائٹ نے ان بیانات کو یورپی حلقوں میں اجاگر کرنے کی کوشش کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ایک مقامی معاملہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیہ سازی کی کوشش ہے۔پی ٹی ایم داخلی مسائل کو مقامی سیاسی و قانونی فورمز کے بجائے عالمی سطح پر اٹھا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے

اہم سوال: کیا کچھ جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا؟

ان تمام تقاریر میں ایک اہم پہلو، دہشت گردی، نمایاں طور پر غیر حاضر رہا جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے، بی ایل ایف اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی کارروائیاں، جن میں عام شہری، مزدور اور ترقیاتی منصوبے نشانہ بنتے رہے، ان کا ذکر تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔

یہ خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیانیہ مکمل تصویر پیش کرنے کے بجائے ایک مخصوص زاویہ اختیار کر رہا تھا۔انسانی حقوق کے نام پر بلوچستان کو نمایاں کرنا اور مقبوضہ کشمیر جیسے معاملات پر خاموشی اختیار کرنا دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کا اجتماعی مؤقف: حقائق کیا کہتے ہیں؟

پاکستانی ریاست کا مؤقف واضح ہے کہ بلوچستان ایک آئینی صوبہ ہے، جہاں سیاسی عمل جاری ہے اور عوامی نمائندگی موجود ہے۔ سی پیک سمیت بڑے ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اقتصادی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچستان کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔

مزید یہ کہ دہشت گرد تنظیمیں، جو بیرونی حمایت کے ساتھ سرگرم ہیں، خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان عناصر کو نظر انداز کر کے صرف ایک رخ کو اجاگر کرنا حقیقت کو مسخ کرنا ہے۔

بیانیہ سازی یا سیاسی ایجنڈا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کانفرنسز دراصل ایک منظم اطلاعاتی مہم کا حصہ ہیں، جہاں انسانی حقوق کے نام پر سیاسی ایجنڈا پیش کیا جا رہا ہے۔ ایسے عناصر عالمی فورمز کو استعمال کر کے پاکستان کے اندرونی معاملات کو متنازع بنانے اور داخلی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کا مقصد نہ صرف عالمی سطح پر دباؤ پیدا کرنا ہے بلکہ پاکستان کے اندر عدم استحکام کو فروغ دینا بھی ہے، تاکہ اپنے مخصوص مفادات حاصل کیے جا سکیں۔

دعوے، حقیقت اور بیانیے کی جنگ

یورپ میں منعقد ہونے والی ان کانفرنسز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بلوچستان کا معاملہ اب صرف زمینی حقیقت نہیں بلکہ ایک بیانیاتی جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔

مقررین کے بیانات اپنی جگہ، مگر تاریخی حقائق، آئینی حیثیت اور سکیورٹی تناظر کو نظر انداز کر کے پیش کیا جانے والا مؤقف مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ معلوماتی محاذ پر بھی مؤثر حکمت عملی اپنائے تاکہ حقیقت کو عالمی سطح پر واضح کیا جا سکے اور کسی بھی گمراہ کن بیانیے کا بروقت اور مضبوط جواب دیا جا سکے۔

دیکھئیے:مردان کے علاقے طورُو میں فجر کے وقت فائرنگ؛ مولانا عابد علی شہید

متعلقہ مضامین

پاکستان کی کارروائیاں مخصوص معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت، ٹھکانوں اور فائرنگ پوزیشنز کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کو

March 29, 2026

ایسے فورمز پر سرگرم عناصر نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتے ہیں بلکہ ملک کے اندر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں، جس سے بیرونی بیانیوں کو تقویت ملتی ہے۔

March 29, 2026

بلوچستان ملک کا ایک آئینی اور جغرافیائی حصہ ہے، جہاں سیاسی عمل جاری ہے اور عوامی نمائندگی موجود ہے۔ مختلف ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور علاقائی رابطہ کاری کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچستان کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔

March 29, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے حالیہ بحران میں سعودی قیادت کے تحمل اور دانشمندانہ طرز عمل کو سراہا

March 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.