ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور یورپی کونسل کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے

March 30, 2026

اگر ایران نے فوجی آپریشن کے بعد بھی آبنائے ہرمز بند رکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کیلئے نہایت اہم راستہ ہے۔

March 30, 2026

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث افغانستان جیسے کمزور انفراسٹرکچر رکھنے والے ممالک میں قدرتی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

March 30, 2026

خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ 24 دن کا تھا جو اب بڑھ کر تقریباً چار ہفتوں تک پہنچ چکا ہے، جو ایک مستحکم سپلائی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

March 30, 2026

سوشل میڈیا کی دنیا میں شہرت، دباؤ، تنقید اور تنہائی جیسے عوامل نوجوان انفلوئنسرز کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں

March 30, 2026

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے چھٹے میچ میں کراچی کنگز کی اننگز کے دوران گیند کی حالت میں تبدیلی پر لاہور قلندرز کو 5 رنز کی پنالٹی بھی دی گئی تھی۔

March 30, 2026

شہباز شریف اور یورپی کونسل کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور یورپی کونسل کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے
ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور یورپی کونسل کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے

گفتگو کے دوران وزیراعظم کے گزشتہ ماہ مؤخر ہونے والے دورہ برسلز کا بھی ذکر آیا۔ یورپی کونسل کے صدر نے وزیراعظم کو برسلز آمد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر ان کے خیرمقدم کے منتظر ہیں

March 30, 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کو آج یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں علاقائی سلامتی، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان و یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔

ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور یورپی کونسل کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وزیراعظم نے صدر انتونیو کوسٹا کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔

پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت

یورپی کونسل کے صدر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے متحرک کردار اور امن کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین خطے میں تنازعات کے حل کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی تائید کرتی ہے اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری کو اہمیت دیتی ہے۔

اقتصادی تعاون اور جی ایس پی پلس

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے لیے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ‘جی ایس پی پلس’ اسٹیٹس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ وہ 28 اور 29 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پہلے ‘پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم’ کا افتتاح کرنے کے خواہشمند ہیں، جو دونوں خطوں کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

دورہ برسلز

گفتگو کے دوران وزیراعظم کے گزشتہ ماہ مؤخر ہونے والے دورہ برسلز کا بھی ذکر آیا۔ یورپی کونسل کے صدر نے وزیراعظم کو برسلز آمد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر ان کے خیرمقدم کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔

متعلقہ مضامین

اگر ایران نے فوجی آپریشن کے بعد بھی آبنائے ہرمز بند رکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کیلئے نہایت اہم راستہ ہے۔

March 30, 2026

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث افغانستان جیسے کمزور انفراسٹرکچر رکھنے والے ممالک میں قدرتی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

March 30, 2026

خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ 24 دن کا تھا جو اب بڑھ کر تقریباً چار ہفتوں تک پہنچ چکا ہے، جو ایک مستحکم سپلائی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

March 30, 2026

سوشل میڈیا کی دنیا میں شہرت، دباؤ، تنقید اور تنہائی جیسے عوامل نوجوان انفلوئنسرز کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں

March 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *