وزیراعظم محمد شہباز شریف کو آج یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں علاقائی سلامتی، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان و یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔
ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور یورپی کونسل کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وزیراعظم نے صدر انتونیو کوسٹا کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت
یورپی کونسل کے صدر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے متحرک کردار اور امن کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین خطے میں تنازعات کے حل کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی تائید کرتی ہے اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری کو اہمیت دیتی ہے۔
اقتصادی تعاون اور جی ایس پی پلس
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے لیے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ‘جی ایس پی پلس’ اسٹیٹس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ وہ 28 اور 29 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پہلے ‘پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم’ کا افتتاح کرنے کے خواہشمند ہیں، جو دونوں خطوں کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
دورہ برسلز
گفتگو کے دوران وزیراعظم کے گزشتہ ماہ مؤخر ہونے والے دورہ برسلز کا بھی ذکر آیا۔ یورپی کونسل کے صدر نے وزیراعظم کو برسلز آمد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر ان کے خیرمقدم کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔