واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے اختتام پر آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھولا جائے گا، چاہے ایران کی رضامندی شامل ہو یا عالمی فوجی اتحاد کے ذریعے یہ اقدام اٹھانا پڑے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں روبیو نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مختلف ذرائع سے جاری ہیں اور پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے فوجی آپریشن کے بعد بھی آبنائے ہرمز بند رکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کیلئے نہایت اہم راستہ ہے۔
روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا کے فوجی اور سفارتی اہداف واضح ہیں اور انہیں چند ہفتوں میں حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ واشنگٹن کسی طویل جنگ کے بجائے تیز اور فیصلہ کن حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے وسائل خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی حمایت پر خرچ کر رہا ہے اور پڑوسی ممالک کیلئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکا اس حوالے سے کسی بھی ممکنہ پیشرفت کو روکنے کیلئے پرعزم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق یہ بیان خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی سپلائی کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی تصادم کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔
دیکھئیے:ایران نے جلد معاہدہ نہ کیا تو تمام توانائی تنصیبات کو تباہ کردیں گے: ٹرمپ کی دھمکی