طورخم: پاکستان اور افغانستان کے سرحدی حکام کے درمیان طورخم بارڈر پر اعلیٰ سطح کی فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے اور آمدورفت کی بحالی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
بارڈر ذرائع کے مطابق یہ ملاقات عیدالفطر کے موقع پر طے پانے والے عارضی سیز فائر کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اہم اعلیٰ سطحی بات چیت تھی، جسے کشیدگی میں کمی کی جانب مثبت پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے مطالبات، تحفظات اور سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا، جبکہ سرحدی نظم و نسق بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر کو جلد کھولنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف تجارت بلکہ افغان شہریوں اور وطن واپسی کے منتظر افراد کی آمدورفت بھی بحال ہو سکے گی۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں افغان شہری اس وقت واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ بارڈر کی بندش کے باعث دونوں جانب تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
بارڈر ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور کل دوبارہ ہوگا، جس میں مزید پیشرفت متوقع ہے اور حتمی فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عید کے موقع پر سیز فائر اور اس کے بعد ہونے والی یہ فلیگ میٹنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کے باوجود بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
دیکھئیے:افغانستان میں بارشوں اور سیلاب کی تباہی، 28 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی