کابل: افغانستان فریڈم فرنٹ نے رمضان کے دوران عارضی وقفے کے بعد طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بدخشاں میں ایک مہلک حملے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ نے کہا ہے کہ اتوار 29 مارچ کی شام اپنے “اسپرنگ آفینسیو” کے آغاز میں بدخشاں کے ضلع بہارک میں طالبان کی ایک سرحدی یونٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار طالبان اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
The Afghanistan Freedom Front has announced it has resumed attacks against the Taliban after halting operations during Ramadan.https://t.co/NAQhrDx1Pn pic.twitter.com/kzIxDWhXVI
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) March 30, 2026
تاہم طالبان کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ نے رمضان المبارک کے دوران اپنی کارروائیاں معطل کر رکھی تھیں، تاہم اب موسم بہار کے آغاز کے ساتھ ہی دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان نے حال ہی میں ہلمند کے گورنر امان الدین منصور کو بدخشاں میں تعینات کیا ہے، جہاں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس سمجھی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے شمالی علاقوں، خصوصاً بدخشاں میں اپوزیشن گروپس کی سرگرمیاں طالبان حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان گروہوں کو علاقائی یا بین الاقوامی سطح پر حمایت مل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو افغانستان میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور طالبان حکومت کو اندرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دیکھئیے:طورخم بارڈر پر پاک افغان حکام کی اہم فلیگ میٹنگ، گزرگاہ کی بحالی پر پیشرفت کی امید