وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلح جتھوں کو اسلام آباد آنے نہیں دیا جائے گا، پُرامن احتجاج پی ٹی آئی کی روایت نہیں ہے۔

September 21, 2026

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

September 21, 2026

جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر، ممتاز عالم دین اور معروف مصنف حافظ محمد ادریس علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

September 21, 2026

جنگ ستمبر کے 21 ویں روز سیالکوٹ میں ٹینکوں کی بڑی لڑائی میں افواج پاکستان نے تاریخی اور فیصلہ کن فتح حاصل کی۔

September 21, 2026

خاران میں ڈپٹی کمشنر کو مبینہ طور پر ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ سمیت اغوا کر لیا گیا ہے۔

September 21, 2026

پی ٹی اے کے نام سے رات کے وقت فائر وال فعال کرنے سے متعلق گردش کرنے والا نوٹس جعلی اور من گھڑت ہے۔

September 21, 2026

ام رباب کیس: جاگیردارانہ نظام کی مسند نشینی یا نظامِ عدل کا نوحہ؟

سندھ کی سرزمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس بیٹی کی جدوجہد دراصل اس سماج کو جھنجھوڑنے کی ایک سعی تھی، جہاں وڈیرہ شاہی کی جڑیں قانون کی کتابوں سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ہی دن میں باپ کا سایہ، دادا اور چچا کا چھن جانا کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بغاوت کی قیمت تھی جو ایک بلند عزم خاتون نے مروجہ سرداری نظام کے خلاف ادا کی
سندھ کی سرزمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس بیٹی کی جدوجہد دراصل اس سماج کو جھنجھوڑنے کی ایک سعی تھی، جہاں وڈیرہ شاہی کی جڑیں قانون کی کتابوں سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ہی دن میں باپ کا سایہ، دادا اور چچا کا چھن جانا کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بغاوت کی قیمت تھی جو ایک بلند عزم خاتون نے مروجہ سرداری نظام کے خلاف ادا کی

یہ فیصلہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ "العوام کالانعام" کا تصور ابھی تک پوری قوت سے سانسیں لے رہا ہے۔ جاگیردارانہ نظام میں عام آدمی کی حیثیت فقط ایک ریوڑ کی سی ہے، جس کی گنتی صرف اقتدار کے حصول کے لیے کی جاتی ہے

March 31, 2026

ام رباب چانڈیو کا قصہ محض ایک عدالتی فائل کا بند ہونا نہیں بلکہ اس فرسودہ اور سفاک جاگیردارنہ نظام کی از سرِ نو مسند نشینی ہے جو انسانی جانوں کو اپنی جاگیر اور ان کے لہو کو اپنی بقا کی غذا سمجھتا ہے۔ سندھ کی سرزمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس بیٹی کی جدوجہد دراصل اس سماج کو جھنجھوڑنے کی ایک سعی تھی، جہاں وڈیرہ شاہی کی جڑیں قانون کی کتابوں سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ہی دن میں باپ کا سایہ، دادا اور چچا کا چھن جانا کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بغاوت کی قیمت تھی جو ایک بلند عزم خاتون نے مروجہ سرداری نظام کے خلاف ادا کی۔
یہ فیصلہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ “العوام کالانعام” کا تصور ابھی تک پوری قوت سے سانسیں لے رہا ہے۔ جاگیردارانہ نظام میں عام آدمی کی حیثیت فقط ایک ریوڑ کی سی ہے، جس کی گنتی صرف اقتدار کے حصول کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ اس نظام میں شک کا فائدہ ہمیشہ اسے ملتا ہے جس کے پاس طاقت و قوت ہو اور اثر و رسوخ جیسی متاع ہو۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ وہ ملزمان جو برسوں مفرور رہے، جن کے خلاف عینی شاہدین نے گواہیاں دیں اور جن کے ظلم کی داستانیں زبان زدِ عام تھیں، وہ باعزت بری ہو گئے؟ صرف یہی نہیں بلکہ عدالت سے واپسی پر جس انداز سے انکا استقبال ہوا ، فائرنگ کی گئی دیکھنے کے لائق تھی۔ یہ تمام تر کاروائی دراصل اس مظلوم طبقے کی تذلیل ہے جو آج بھی انصاف کے لیے اِسی جانب رخ کرتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد ام رباب کا اپنے والد کی قبر پر سر رکھ کر رونا کسی شکست کا اعلان نہیں، بلکہ اس نظامِ عدل کے منہ پر ایک نوحہ ہے جو شواہد کے بوجھ تلے نہیں بلکہ مصلحتوں کے دباؤ میں دب گیا ہے۔ ام رباب ہاری نہیں ہے بلکہ اس نے جاگیرداری کے اس بھیانک چہرے سے وہ نقاب نوچ چھینا ہے جسے ہم جمہوریت کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے عزم و استقلال نے ثابت کر دیا کہ ایک تنِ تنہا خاتون ان وڈیروں کے تخت ہلا سکتی ہے اور انہیں طویل عرصے تک روپوش رہنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ یہ واقعہ ان گنت مظلوموں کے لیے ایک دستک ہے کہ اس جنگل میں بقا فقط شکاری کی ہے، اور صیدِ زبوں (کمزور شکار) کی اوقات بس اتنی ہے کہ اسے جب چاہے قربان کر دیا جائے۔
الحاصل ام رباب کیس کا حالیہ فیصلہ محض ایک قانونی تنازعے کا تصفیہ نہیں بلکہ ہمارے مجموعی نظام کی ترجیحات کا عکاس ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مقننہ اور عدلیہ مل کر ان خلاؤں کو پُر کریں جہاں ‘شک کا فائدہ’ مصلحتوں کی ڈھال بن جاتا ہے۔ اگرچہ آج کا دن وڈیرہ شاہی کے تسلط کی توثیق معلوم ہوتا ہے لیکن ام رباب چانڈیو کے عزم و جدوجہد نے ثابت کر دیا ہے کہ جبر و تاریک کے سائے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، حق کی صدا کو مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ معاملہ اب محض ایک خاندان کے انصاف تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستانی شہری اس قدر مضطرب اور مایوسانہ کیفیت کا شکار ہیں جن کا حل اب اُس ماں کے ذمے جسے ریاست کہا جاتا ہے کیونکہ اگر ریاست اپنے شہریوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی تو پھر معاشرے میں قانون کی حکمرانی کا تصور ایک ایسا خواب بن کر رہ جائے گا جس کی تعبیر فقط طاقتور و وڈیروں کے گھر کی باندی ہوگی۔

متعلقہ مضامین

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلح جتھوں کو اسلام آباد آنے نہیں دیا جائے گا، پُرامن احتجاج پی ٹی آئی کی روایت نہیں ہے۔

September 21, 2026

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

September 21, 2026

جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر، ممتاز عالم دین اور معروف مصنف حافظ محمد ادریس علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

September 21, 2026

جنگ ستمبر کے 21 ویں روز سیالکوٹ میں ٹینکوں کی بڑی لڑائی میں افواج پاکستان نے تاریخی اور فیصلہ کن فتح حاصل کی۔

September 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *