خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی بحری راستوں پر غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ایک کلیدی قومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جو ملک کی توانائی ضروریات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معیشت پر دباؤ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
آبنائے ہرمز اور سپلائی سکیورٹی کا چیلنج
آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات اور انشورنس اخراجات میں اضافے کے باعث متعدد غیر ملکی آئل ٹینکرز نے اس روٹ پر آپریشنز محدود کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی۔
ایسے میں پی این ایس سی نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کو جاری رکھا، جو توانائی سکیورٹی کے حوالے سے نہایت اہم پیش رفت ہے۔
مالی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت
پی این ایس سی ملک کے چند منافع بخش سرکاری اداروں میں شامل ہے، جس نے گزشتہ مالی سال میں 10 ارب روپے سے زائد منافع حاصل کیا۔ ادارہ اس وقت 12 جہازوں پر مشتمل بیڑا چلا رہا ہے، جن میں 7 آئل ٹینکرز شامل ہیں، اور یہ پاکستان کے مجموعی کمرشل کارگو کا تقریباً 11 فیصد ہینڈل کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کارکردگی ایک ایسے وقت میں مزید اہم ہو جاتی ہے جب بیشتر سرکاری ادارے خسارے کا شکار ہیں۔
فریٹ بل اور زرمبادلہ پر دباؤ
پاکستان کی تقریباً 89 فیصد بحری تجارت اب بھی غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، جس کے باعث سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر فریٹ چارجز کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پی این ایس سی کی صلاحیت بڑھائی جائے تو اس بھاری زرمبادلہ کے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور معاشی استحکام کو تقویت دی جا سکتی ہے۔
نجکاری سے اخراج اور حکومتی حکمت عملی
حکومت نے پی این ایس سی کی اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نجکاری کی فہرست سے خارج کر دیا ہے، جو ایک اہم اور دور اندیش فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت حکومت کے پاس ادارے کے 87.56 فیصد شیئرز ہیں جبکہ باقی حصص عوام اور پی این ایس سی ایمپلائیز ایمپاورمنٹ ٹرسٹ کے پاس ہیں، جو اس ادارے کو قومی مفاد کے تناظر میں برقرار رکھنے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
بیڑے کی توسیع اور مستقبل کا وژن
حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں پی این ایس سی کے بیڑے کو 12 سے بڑھا کر 54 جہازوں تک لے جانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس توسیع سے نہ صرف پاکستان کے فریٹ بل میں کمی آئے گی بلکہ توانائی اور دیگر اہم اشیاء کی محفوظ اور بروقت ترسیل کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا، جبکہ میری ٹائم سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
قومی معیشت اور سکیورٹی میں کلیدی حیثیت
ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔ مؤثر پالیسی سازی اور بروقت سرمایہ کاری کے ذریعے اسے نہ صرف مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط بحری تجارتی قوت کے طور پر بھی ابھارا جا سکتا ہے۔