...
ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔

March 31, 2026

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب ہر ملک کی مدد نہیں کرے گا، آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکا اب آپ کی مدد کے لیے موجود نہیں ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے آپ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔

March 31, 2026

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے

March 31, 2026

پاکستان اور رومانیہ نے کراچی اور کونسٹانٹا کی بندرگاہوں کے درمیان معاشی و تکنیکی تعاون کے لیے ایک اہم مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں

March 31, 2026

اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے لازمی سزائے موت کا قانون منظور کر لیا ہے، جسے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک منظم ریاستی جبر اور غیر انسانی اقدام قرار دے رہی ہیں

March 31, 2026

عدالتی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ کیس کی 284 پیشیاں ہوئیں۔

March 31, 2026

پاکستان کی توانائی سکیورٹی میں پی این ایس سی کا ابھرتا کردار، حکومتی توسیعی منصوبہ سامنے آگیا

ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔
پاکستان کی توانائی سکیورٹی میں پی این ایس سی کا ابھرتا کردار، حکومتی توسیعی منصوبہ سامنے آگیا

پاکستان کی تقریباً 89 فیصد بحری تجارت اب بھی غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، جس کے باعث سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر فریٹ چارجز کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔

March 31, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی بحری راستوں پر غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ایک کلیدی قومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جو ملک کی توانائی ضروریات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معیشت پر دباؤ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

آبنائے ہرمز اور سپلائی سکیورٹی کا چیلنج


آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات اور انشورنس اخراجات میں اضافے کے باعث متعدد غیر ملکی آئل ٹینکرز نے اس روٹ پر آپریشنز محدود کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی۔

ایسے میں پی این ایس سی نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کو جاری رکھا، جو توانائی سکیورٹی کے حوالے سے نہایت اہم پیش رفت ہے۔

مالی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت


پی این ایس سی ملک کے چند منافع بخش سرکاری اداروں میں شامل ہے، جس نے گزشتہ مالی سال میں 10 ارب روپے سے زائد منافع حاصل کیا۔ ادارہ اس وقت 12 جہازوں پر مشتمل بیڑا چلا رہا ہے، جن میں 7 آئل ٹینکرز شامل ہیں، اور یہ پاکستان کے مجموعی کمرشل کارگو کا تقریباً 11 فیصد ہینڈل کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کارکردگی ایک ایسے وقت میں مزید اہم ہو جاتی ہے جب بیشتر سرکاری ادارے خسارے کا شکار ہیں۔

فریٹ بل اور زرمبادلہ پر دباؤ


پاکستان کی تقریباً 89 فیصد بحری تجارت اب بھی غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، جس کے باعث سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر فریٹ چارجز کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پی این ایس سی کی صلاحیت بڑھائی جائے تو اس بھاری زرمبادلہ کے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور معاشی استحکام کو تقویت دی جا سکتی ہے۔

نجکاری سے اخراج اور حکومتی حکمت عملی


حکومت نے پی این ایس سی کی اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نجکاری کی فہرست سے خارج کر دیا ہے، جو ایک اہم اور دور اندیش فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت حکومت کے پاس ادارے کے 87.56 فیصد شیئرز ہیں جبکہ باقی حصص عوام اور پی این ایس سی ایمپلائیز ایمپاورمنٹ ٹرسٹ کے پاس ہیں، جو اس ادارے کو قومی مفاد کے تناظر میں برقرار رکھنے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

بیڑے کی توسیع اور مستقبل کا وژن


حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں پی این ایس سی کے بیڑے کو 12 سے بڑھا کر 54 جہازوں تک لے جانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس توسیع سے نہ صرف پاکستان کے فریٹ بل میں کمی آئے گی بلکہ توانائی اور دیگر اہم اشیاء کی محفوظ اور بروقت ترسیل کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا، جبکہ میری ٹائم سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

قومی معیشت اور سکیورٹی میں کلیدی حیثیت


ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔ مؤثر پالیسی سازی اور بروقت سرمایہ کاری کے ذریعے اسے نہ صرف مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط بحری تجارتی قوت کے طور پر بھی ابھارا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب ہر ملک کی مدد نہیں کرے گا، آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکا اب آپ کی مدد کے لیے موجود نہیں ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے آپ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔

March 31, 2026

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے

March 31, 2026

پاکستان اور رومانیہ نے کراچی اور کونسٹانٹا کی بندرگاہوں کے درمیان معاشی و تکنیکی تعاون کے لیے ایک اہم مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں

March 31, 2026

اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے لازمی سزائے موت کا قانون منظور کر لیا ہے، جسے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک منظم ریاستی جبر اور غیر انسانی اقدام قرار دے رہی ہیں

March 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.