بیجنگ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے اہم امن مذاکرات کا آغاز کل بدھ کے روز چین کے شہر اُرومچی میں ہوگا، جس کی میزبانی اور ثالثی چین کرے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات چین کی طویل اور بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد ممکن ہوئے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلا باقاعدہ دور ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے دونوں ممالک کو غیرجانبدار اور مخلصانہ ماحول میں مذاکرات کیلئے اُرومچی مدعو کیا ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں قطر، ترکیہ اور سعودی عرب میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کی پیشرفت اور پس منظر کا جائزہ لیا جائے گا۔
مذاکرات میں چین دونوں فریقین کے مؤقف کو تفصیل سے سنے گا اور اس کے بعد ایک ایسا باہمی قابلِ قبول اور قابلِ تصدیق میکنزم تشکیل دینے کی کوشش کرے گا جو جاری کشیدگی اور اہم تنازعات کے حل میں مدد دے سکے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے وفود میں سکیورٹی، دفاع اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام شامل ہوں گے، جو سرحدی صورتحال، دہشتگردی اور باہمی تعلقات کے امور پر بات چیت کریں گے۔
چین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک پُرامن اور متوازن حل نکالنے کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں استحکام کیلئے اہم پیشرفت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاک۔افغان تعلقات مختلف چیلنجز سے گزر رہے ہیں۔
دیکھئیے:چین اور پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے 5 نکاتی منصوبہ، جنگ بندی اور مذاکرات پر زور