"> افغان میڈیا 'المرصاد' کا پاکستان مخالف بیانیہ مسترد، اسرائیل سے موازنہ محض سیاسی پراپیگنڈا قرار - HTN Urdu
مددگار یا مکار؟ ایجوکیشن کنسلٹنٹ یا فراڈ کا ماہر؟

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

افغان میڈیا ‘المرصاد’ کا پاکستان مخالف بیانیہ مسترد، اسرائیل سے موازنہ محض سیاسی پراپیگنڈا قرار

دفاعی ماہرین نے المرصاد کے پاکستان مخالف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل سے موازنہ اور ٹی ٹی پی کو حماس کے برابر قرار دینا تاریخی حقائق کی سنگین توہین ہے
دفاعی ماہرین نے المرصاد کے پاکستان مخالف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل سے موازنہ اور ٹی ٹی پی کو حماس کے برابر قرار دینا تاریخی حقائق کی سنگین توہین ہے

پاکستان نے افغان میڈیا 'المرصاد' کے پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اور اسرائیل کے درمیان موازنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں، یہ بیانیہ دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے

April 1, 2026

دفاعی اور قانونی ماہرین نے افغان طالبان کے قریبی میڈیا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ کی جانب سے پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ موازنہ کرنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گمراہ کن بیانیے کا واحد مقصد افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ٹی ٹی پی کی سہولت کاری کے اصل مسئلے سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔

تجزیہ کاروں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان 1947 میں ‘دو قومی نظریہ’ کے تحت اسی سرزمین پر موجود مسلمانوں کی نمائندگی کے طور پر نقشے پر ابھرا، جبکہ اس کے برعکس اسرائیل کا قیام 1948 میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور زمین پر قبضے کا نتیجہ تھا۔ ان دونوں کے درمیان کوئی بھی تقابل تاریخی اور اخلاقی طور پر ناممکن ہے۔ مزید برآں، اقوامِ متحدہ یا عالمی عدالتِ انصاف کی سطح پر پاکستان کو ‘قابض’ قرار دینے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں، جبکہ فلسطین ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ مقبوضہ علاقہ ہے۔

ماہرین نے تحریکِ طالبان پاکستان کا موازنہ ‘حماس’ سے کرنے کو ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس ایک غیر ملکی قابض قوت کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جبکہ ٹی ٹی پی ایک خود مختار مسلم ریاست کے اندر مساجد، اسکولوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس طرح کا بیانیہ دراصل ایک ‘خوارجی طرز’ کی تحریف ہے جس کا مقصد ایک مسلم ریاست کے خلاف تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حقائق اس کے برعکس ہیں کہ افغانستان میں اب بھی 23 ہزار کے قریب جنگجو موجود ہیں جو خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی فریم ورکنگ محض ایک ڈھال ہے تاکہ ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی پر پردہ ڈالا جا سکے۔

دیکھیے: فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن؛ خیبرپختونخوا میں 13 دہشت گرد جہنم واصل

متعلقہ مضامین

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

October 17, 2026

جنرل سید عامر رضا نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے تیار ہے۔

October 17, 2026

چاغی کے علاقے دالبندین میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 مطلوب دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

October 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *