وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ‘رہائی فورس’ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی گروہ یا فرد کو قانون کے دائرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت تمام متعلقہ فریقین سے فوری جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ ریاست کی رِٹ کو ہجوم کی سیاست کے ذریعے چیلنج کرنا قانون کی بالادستی کے منافی ہے۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو ایک مضبوط پیغام قرار دے رہے ہیں کہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہی مقدم ہے اور کسی کو بھی افراتفری، دھونس یا سیاسی بلیک میلنگ کے ذریعے اداروں پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے نہ صرف ‘رہائی فورس’ بلکہ ‘رہائی امن موومنٹ’ کے نام سے ایک ایسی تحریک شروع کی گئی ہے جسے محض ایک سیاسی سرکس اور سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد ہجوم کو اکسانا اور ایک سزا یافتہ فرد کے حق میں ریاستی اداروں کے خلاف صف آرا ہونا ہے۔ عدالت میں اس نکتے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہر ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر لگنے والے ‘سیاسی تماشے’ کا مقصد صرف بد نظمی پھیلانا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست کسی بھی قسم کے ہجومی دباؤ یا سیاست کے لبادے میں چھپی ریاست مخالف سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ جو عناصر ریاستی اداروں کے مقابل آنے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف قانون کے تحت سخت اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔