اسلام آباد: عمران خان کے مقدمات پر بیرون ملک سے آنے والے بیانیے کو ماہرین نے عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دے دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کچھ حلقے عدالتوں کے بجائے تحریروں اور بیانات کے ذریعے رہائی کا مطالبہ بڑھا رہے ہیں۔ اسے “قانون نہیں، دباؤ” کی حکمت عملی کہا جا رہا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ عمران خان سیاسی قیدی نہیں بلکہ عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں۔ ان کی حراست عدالتی فیصلوں کا نتیجہ ہے، کسی حکومتی فیصلے کا نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک وکیل کی جانب سے عدالتی عمل کو نظر انداز کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ عدالتوں کے فیصلے پسند یا ناپسند کی بنیاد پر رد نہیں کیے جا سکتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں۔ ریاستی نظام اداروں کے تحت چلتا ہے اور سفارتی تعلقات معمول کے مطابق جاری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ بدامنی یا بحران کی پیشگوئیاں دراصل دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں۔ مقصد فوری رہائی کیلئے فضا بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر قانونی معاملات کو نظر انداز کر کے بیرونی مہمات کے ذریعے فیصلے کروانے کی کوشش کی جائے تو یہ انصاف کے نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی مقدم ہے اور ہر فیصلہ عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگا۔