"> ارومچی مذاکرات جاری، پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف، پیشرفت افغانستان کے اقدامات پر منحصر ہے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ارومچی مذاکرات جاری، پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف، پیشرفت افغانستان کے اقدامات پر منحصر ہے

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور چین کے ساتھ اس عمل میں مسلسل شریک ہے، تاہم دیرپا حل کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔
ارومچی مذاکرات جاری، پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف، پیشرفت افغانستان کے اقدامات پر منحصر ہے

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی بنیادی تشویش دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، اور اس حوالے سے افغانستان کو قابلِ تصدیق اور واضح اقدامات کرنا ہوں گے۔

April 2, 2026

اسلام آباد: چین کی ثالثی میں ارومچی میں جاری پاک۔افغان مذاکرات میں پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کا خاتمہ صرف بامعنی پیشرفت کی بنیاد پر ہوگا، جبکہ حقیقی پیشرفت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔

دفتر خارجہ کی بریفنگ کے مطابق پاکستان نے سہ فریقی انسداد دہشتگردی تعاون کے تحت اپنا وفد ارومچی بھجوایا ہے، جو سینئر حکام پر مشتمل ہے۔ یہ مذاکرات ورکنگ لیول پر ہو رہے ہیں اور ابھی جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور چین کے ساتھ اس عمل میں مسلسل شریک ہے، تاہم دیرپا حل کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی بنیادی تشویش دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، اور اس حوالے سے افغانستان کو قابلِ تصدیق اور واضح اقدامات کرنا ہوں گے۔

حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ جاری آپریشن “غضب للحق” میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور سکیورٹی فورسز حالیہ دنوں میں بھی انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان کا ایک درمیانی سطح کا وفد چین پہنچ چکا ہے، جو پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے۔

افغان مؤقف کے مطابق یہ بات چیت باہمی احترام، عدم مداخلت اور تعمیری روابط کی بنیاد پر ہو رہی ہے، جس کا مقصد اچھے ہمسائیگی تعلقات، تجارت کے فروغ اور سکیورٹی امور پر پیشرفت ہے۔

افغان ترجمان کا کہنا ہے کہ سفارتی تعامل کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے، جو خطے کے استحکام کیلئے اہم ہوگا۔

واضح رہے کہ ارومچی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت جاری ہیں جب پاک۔افغان تعلقات سکیورٹی اور سرحدی مسائل کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔:

دیکھئیے:

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *