زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، کمانڈر خالد گل سمیت 3 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشنز میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 49 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

اسرائیلی سزائے موت قانون مسترد: پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے اسرائیلی قانون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نسل پرستانہ اقدام خطے میں تشدد کی نئی لہر اور عدم استحکام کا باعث بنے گا
پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے اسرائیلی قانون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نسل پرستانہ اقدام خطے میں تشدد کی نئی لہر اور عدم استحکام کا باعث بنے گا

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کا مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے اسرائیلی قانون کے خلاف مشترکہ اعلامیہ

April 2, 2026

پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے نفاذ سے متعلق اسرائیلی قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس مشترکہ بیان میں، جس میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ حالیہ قانون سازی بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ امتیازی اقدامات ‘اپارتھائیڈ’ (نسل پرستانہ) نظام کو مزید تقویت دے رہے ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور ان کے وجود کو مٹانا ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کی قانون سازی سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی، جس سے نہ صرف علاقائی امن داؤ پر لگ جائے گا بلکہ اسرائیلی قید میں موجود فلسطینیوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہو جائے گی۔

پاکستان نے اس ضمن میں اپنے دوٹوک مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کا قانون ایک خطرناک پیش رفت ہے جو قیامِ امن کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک مربوط مسلم اور علاقائی سفارتی بلاک کے حصے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور کثیر الجہتی قانونی جواز کو تقویت دی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی قانون سازی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کے اس اقدام کا محاسبہ کرے اور مقبوضہ علاقوں میں شہریوں اور قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھائے۔ یہ مشترکہ اعلامیہ فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *