پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے نفاذ سے متعلق اسرائیلی قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس مشترکہ بیان میں، جس میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ حالیہ قانون سازی بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ امتیازی اقدامات ‘اپارتھائیڈ’ (نسل پرستانہ) نظام کو مزید تقویت دے رہے ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور ان کے وجود کو مٹانا ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کی قانون سازی سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی، جس سے نہ صرف علاقائی امن داؤ پر لگ جائے گا بلکہ اسرائیلی قید میں موجود فلسطینیوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہو جائے گی۔
پاکستان نے اس ضمن میں اپنے دوٹوک مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کا قانون ایک خطرناک پیش رفت ہے جو قیامِ امن کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک مربوط مسلم اور علاقائی سفارتی بلاک کے حصے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور کثیر الجہتی قانونی جواز کو تقویت دی ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی قانون سازی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کے اس اقدام کا محاسبہ کرے اور مقبوضہ علاقوں میں شہریوں اور قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھائے۔ یہ مشترکہ اعلامیہ فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔