افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔

April 5, 2026

شہباز گل کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ایران نے پاکستان میں مذاکرات سے انکار کیا کیونکہ یہ ایک مبینہ “جال” تھا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ ایک معروف دانشور ولی نصر سے غلط طور پر منسوب کیا گیا۔

April 5, 2026

پاکستان 2014 سے اس اسکیم کا حصہ ہے اور اس کے تحت درکار تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر چکا ہے، جن میں انسانی حقوق، لیبر، ماحولیات اور گورننس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

April 5, 2026

یہ اقدام نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں شامل کرنے اور انہیں مستقبل کی قیادت کیلئے تیار کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔

April 5, 2026

امریکی حکام نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت یا واقعے کے محرکات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

April 5, 2026

عالمی جریدے سری لنکا گارڈین نے طالبان کے نظامِ حکومت کو غیر نمائندہ اور آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں طاقت کا مرکز قندھار کا ایک مختصر حلقہ ہے، جہاں اداروں کے بجائے فرمانوں کے ذریعے حکومت چلائی جا رہی ہے

April 4, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی سفارت کاری کامیاب، بھارت پیچھے رہ گیا: فنانشل ٹائمز کا دعویٰ

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو بھارت کے لیے بڑی سبکی قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کی کامیابی نے نئی دہلی کو عالمی منظرنامے پر تنہا کر دیا ہے
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو بھارت کے لیے بڑی سبکی قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کی کامیابی نے نئی دہلی کو عالمی منظرنامے پر تنہا کر دیا ہے

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ثالثی کا کردار بھارت کے لیے سفارتی دھچکا ثابت ہوا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی شمولیت اور بھارت کی بے دخلی نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے

April 4, 2026

برطانیہ کے نامور معاشی جریدے ‘فنانشل ٹائمز’ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششیں بھارت کے لیے غیر متوقع اور شدید دھچکا ثابت ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال نے نئی دہلی کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار سوشانت سنگھ نے جریدے میں شائع اپنے مضمون میں صراحت کی ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک کلیدی ثالث کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت اس اہم ترین مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر باہر رہا، جس کے نتیجے میں واشنگٹن میں اس کا دیرینہ اثر و رسوخ کمزور پڑ گیا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل نئے علاقائی بلاک کی تشکیل اور ان ممالک کے باہمی تعاون نے بھارت کو سفارتی تنہائی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف چین کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو مستحکم رکھا بلکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے ہی پاکستانی قیادت کو ثالثی کے لیے بھارت پر فوقیت دی جاتی رہی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی ان تبدیلیوں اور پاکستان کے کامیاب سفارتی متحرک ہونے کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بین الاقوامی محاذ پر ہزیمت کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان خطے میں ایک ناگزیر قوت کے طور پر ابھرا ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔

April 5, 2026

شہباز گل کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ایران نے پاکستان میں مذاکرات سے انکار کیا کیونکہ یہ ایک مبینہ “جال” تھا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ ایک معروف دانشور ولی نصر سے غلط طور پر منسوب کیا گیا۔

April 5, 2026

پاکستان 2014 سے اس اسکیم کا حصہ ہے اور اس کے تحت درکار تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر چکا ہے، جن میں انسانی حقوق، لیبر، ماحولیات اور گورننس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

April 5, 2026

یہ اقدام نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں شامل کرنے اور انہیں مستقبل کی قیادت کیلئے تیار کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔

April 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *