پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان دیرینہ تعلقات محض رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ یہ اعتماد، باہمی احترام اور لازوال تعاون پر مبنی ‘آہنی برادرانہ’ رشتوں میں ڈھل چکے ہیں۔ حالیہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی یکجہتی اور معاشی شراکت داری خطے میں استحکام کے لیے ایک کلیدی ستون بن کر ابھری ہے۔
معاشی اور تزویراتی شراکت داری
دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط کی جڑیں انتہائی گہری ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سالانہ باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے ‘فوجی فاؤنڈیشن’ میں 1 ارب ڈالر کی خطیر ایکویٹی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور معاشی اعتماد کی اعلیٰ ترین سطح کو ظاہر کرتی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت 17 لاکھ سے زائد پاکستانی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک مضبوط انسانی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
تاریخی رشتہ اور والہانہ وابستگی
متحدہ عرب امارات کی قیادت کے لیے پاکستان ہمیشہ سے ایک ‘دوسرا گھر’ رہا ہے۔ رحیم یار خان میں اماراتی قیادت کا خصوصی رن وے اور تعطیلاتی محل اس قلبی وابستگی اور گہری عقیدت کی زندہ مثالیں ہیں۔ یو اے ای نے ہر مشکل گھڑی میں، خواہ وہ مالی معاونت ہو یا توانائی کا شعبہ، پاکستان کا ساتھ دے کر اپنی غیر متزلزل دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ پاکستان بھی اپنے ان برادر ملکوں کے ساتھ ہر اچھے برے وقت میں شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
علاقائی امن اور ثالثی کا وژن
موجودہ عالمی اور علاقائی غیر یقینی صورتحال میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو مزید مضبوط اور سیاست سے بالاتر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ثالثی کی کوششیں اسی وژن کا حصہ ہیں۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ جنگ میں کسی بھی قسم کی شدت یا پھیلاؤ پورے خطے کو تشدد کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے، جس کے اثرات نسلوں تک باقی رہیں گے۔
صہیونی سازشوں سے بچنے کی ضرورت
موجودہ عالمی منظرنامے میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال جس نہج پر پہنچ چکی ہے، وہاں امتِ مسلمہ کے لیے جذباتیت سے بالاتر ہو کر ایک نہایت گہرے، محتاط اور غیر جذباتی تزویراتی تجزیے کی ضرورت ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اشتعال میں کیے گئے فیصلے اکثر نسلوں تک مٹنے والے زخم اور دائمی دشمنیاں چھوڑ جاتے ہیں۔ پاکستان نے اس حساس موقع پر واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ عالمِ اسلام کو ان صہیونی سازشوں کا ادراک کرنا ہوگا جن کا بنیادی ہدف مسلم ممالک کو باہم دست و گریبان کر کے ان کی عسکری و معاشی توانائی کو اندرونی خلفشار کی نذر کرنا ہے، تاکہ دشمن قوتیں میدانِ جنگ میں اترے بغیر ہی محض ‘مالِ غنیمت’ سمیٹنے کے لیے آ موجود ہوں۔
اس مخدوش صورتحال میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا ‘آہنی برادرانہ’ اشتراکِ عمل محض ایک سفارتی ضرورت نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک ناگزیر ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاست سے بالاتر ہو کر تزویراتی یکجہتی کا فروغ ہی وہ واحد راستہ ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو تشدد کے لامتناہی چکر سے نکال سکتا ہے، بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے بیرونی ڈیزائنوں کو ناکام بنا کر ایک مستحکم اور پرامن مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔