بھارت کے مشہور سیاحتی شہر جے پور میں ‘چنچل’ نامی ایک معمر ہتھنی کی موت اور ایک غیر ملکی خاتون فوٹوگرافر کے ‘پنک تھیم’ فوٹو شوٹ نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ وائرل ہونے والی تصاویر میں ہتھنی کو مکمل طور پر گلابی رنگ میں رنگا ہوا دکھایا گیا ہے، جس کے بعد صارفین نے الزام عائد کیا کہ ہتھنی کی موت پینٹ کے باعث ہونے والے انفیکشن سے ہوئی ہے۔
روسی فوٹوگرافر جولیا برولیوا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ فوٹو شوٹ نومبر 2025 میں کیا گیا تھا، جبکہ ہتھنی کی موت چار ماہ بعد 4 فروری 2026 کو ہوئی۔ جولیا کے مطابق انہوں نے جے پور کی نسبت سے ‘پنک سٹی سیریز’ تیار کی تھی اور ہتھنی کی موت کا فوٹو شوٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ “غلط معلومات پھیلانے سے پہلے حقائق کی تصدیق کر لی جائے۔”
پوسٹ مارٹم رپورٹ
تین ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے ہتھنی کا پوسٹ مارٹم کیا، جس کی روشنی میں ڈاکٹر اروند ماتھر نے بی بی سی کو بتایا کہ چنچل کی موت مکمل طور پر طبعی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 سالہ ہتھنی بڑھاپے کی وجہ سے مختلف جسمانی تبدیلیوں کا شکار تھی اور اس کی موت اعضا کے ناکارہ ہونے اور دل کی دھڑکن بند ہونے سے ہوئی۔ ڈاکٹر ماتھر نے رنگ کی وجہ سے کسی بھی قسم کے انفیکشن کے امکان کو قطعی طور پر رد کر دیا۔
ہاتھی ولیج کمیٹی اور عینی شاہدین کا مؤقف
ہاتھی ولیج کمیٹی کے صدر بلو خان نے بتایا کہ یہ فوٹو شوٹ محض 20 منٹ کا تھا جس کے فوراً بعد ہتھنی کو نہلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چنچل گزشتہ پانچ سال سے بڑھاپے کی وجہ سے کسی قسم کی سواری کے لیے استعمال نہیں ہو رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق فوٹو شوٹ کے دوران ہتھنی اور ماڈل کو بغیر کسی کیمیائی رنگ کے پینٹ کیا گیا تھا۔
پیٹا انڈیا کا ردِعمل
جانوروں کے حقوق کی تنظیم ‘پیٹا انڈیا’ کی نائب صدر خوشبو گپتا نے اس واقعے کو قید میں رکھے گئے ہاتھیوں کے استحصال کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجارتی مقاصد اور فوٹو شوٹس کے لیے جانوروں کا استعمال ان کے ذہنی اور جسمانی تناؤ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ پیٹا نے مطالبہ کیا ہے کہ ہاتھیوں کی سواری اور ان کے نمائش کے لیے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
اگرچہ محکمہ جنگلات نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ابتدائی شواہد اور طبی رپورٹ سوشل میڈیا پر لگائے جانے والے الزامات کے برعکس ہتھنی کی موت کو قدرتی قرار دے رہے ہیں۔