ہیوسٹن: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھتیجے، 19 سالہ عماد صدیقی کو قتل کر دیا گیا، واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے ہیوسٹن کے نواحی علاقے ایلون میں ایک گیس اسٹیشن کے قریب پیش آیا، جہاں عماد صدیقی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ گاڑی فروخت کرنے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے عماد کو زخمی کیا اور کرسلر گاڑی میں فرار ہو گئے، جبکہ جائے وقوعہ کے اطراف نصب کیمروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک اور گاڑی، ہونڈائی، بھی جائے وقوعہ کے قریب سے برآمد ہوئی ہے، جبکہ مقتول کے دوستوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں اور تفتیش جاری ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ایک مشتبہ ملزم کی شناخت “اولیور” کے نام سے کی گئی ہے، تاہم حکام نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
18 سالہ عماد صدیقی کو زخمی حالت میں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔
مقتول عماد صدیقی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھائی محمد علی صدیقی کے بیٹے تھے، جبکہ ان کی والدہ ڈاکٹر لبنی خواجہ بیلر یونیورسٹی ہیوسٹن میں پروفیسر آف انٹرنل میڈیسن ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے محرکات کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں، جن میں بعض حلقوں نے ممکنہ نفرت انگیز رجحانات کا ذکر کیا ہے، تاہم کسی بھی دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کی مدد سے یہ تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا واقعہ ہدفی حملہ تھا یا کسی اور نوعیت کا جرم۔
متاثرہ خاندان نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس کئی برسوں سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہا ہے، جس کے باعث یہ واقعہ بھی حساس نوعیت اختیار کر گیا ہے۔