ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے؛ عالمی رہنماؤں اور اداروں نے تباہی کو ٹالنے پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا

April 9, 2026

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام سفارتی رابطے تیز رفتار اور خفیہ انداز میں انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کیے گئے، جہاں ایران کے ساتھ واٹس ایپ اور امریکہ کے ساتھ سگنل کے ذریعے پیغامات اور کالز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار نے وقت کی بچت اور میڈیا کی مداخلت سے بچاؤ کو ممکن بنایا۔

April 9, 2026

معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغان صوبے ہرات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں افغان گورنر سے اہم ملاقات کی

April 9, 2026

سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

April 9, 2026

مشرقِ وسطیٰ امن مشن نازک مرحلے پر پہنچ گیا؛ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر عالمی ماہرین کا اظہارِ تشویش

April 9, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی، ازبکستان کا پاکستان کی قیادت اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار

April 9, 2026

شہری ہلاکتوں کا بیانیہ محض پروپیگنڈا ہے، پاکستانی حکام نے افغان الزامات مسترد کر دیے

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
شہری ہلاکتوں کا جھوٹا دعوی

پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ افغان عوام کے ساتھ اس کا کوئی تنازع نہیں اور دونوں ممالک کے عوام تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

April 5, 2026

حمد اللہ فطرت کے دعوؤں پر تفصیلی ردعمل

اسلام آباد: افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے حالیہ بیانات، جن میں پاکستان پر کنڑ، پکتیکا اور خوست میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے، کو پاکستانی حکام اور سیکیورٹی ذرائع نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کر رہا ہے اور افغان سرزمین سے آنے والے خطرات کا مؤثر جواب دے رہا ہے۔

اصل پس منظر: دہشتگردی کی لہر اور پاکستان کی قربانیاں

سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں ہزاروں پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ صرف 2025 میں 600 سے زائد حملے رپورٹ ہوئے۔

اسلام آباد کے جی الیون حملے، بنوں چھاؤنی پر قبضہ، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ اور پشاور پولیس لائنز مسجد دھماکہ جیسے واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشتگردی پاکستان کے لیے ایک مسلسل اور حقیقی خطرہ رہی ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری زیادہ تر تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک گروہوں نے قبول کی، جن کے بارے میں بین الاقوامی رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وہ افغان سرزمین سے آپریٹ کر رہے ہیں۔

افغان سرزمین: دہشتگردی کا مرکز؟

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان شامل ہیں۔ ان تنظیموں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ انہیں نقل و حرکت اور تنظیم سازی کی آزادی بھی حاصل ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق ٹی ٹی پی کی قیادت، بشمول نور ولی محسود اور دیگر کمانڈرز، کنڑ، ننگرہار اور خوست جیسے علاقوں میں موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف: ہم نے کبھی جنگ شروع نہیں کی

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کبھی افغانستان کے خلاف جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ردعمل دیا ہے۔ سرحد پار سے حملوں، چیک پوسٹوں پر فائرنگ اور دہشتگردوں کی دراندازی کے بعد پاکستان کو دفاعی اقدامات کرنا پڑے۔

حکام کے مطابق پاکستان نے طویل عرصے تک سفارتی راستہ اختیار کیا، چین سمیت مختلف فورمز پر افغان حکومت سے مذاکرات کیے اور بارہا مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ تاہم جب یہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو “آپریشن غضب للحق” شروع کیا گیا۔

غضب للحق”: مجبوری میں شروع کیا گیا آپریشن

پاکستانی حکام کے مطابق فروری 2026 میں شروع ہونے والا آپریشن “غضب للحق” دہشتگردوں کے خلاف ایک محدود اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائی ہے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانا ہے۔

حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران اب تک سینکڑوں دہشتگردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے، متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے اور درجنوں چیک پوسٹس ختم کی گئیں۔

مزید برآں تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس آپریشن میں 700 سے زائد خوارج اور طالبان جنگجو مارے جا چکے ہیں جبکہ 900 سے زائد زخمی ہوئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کارروائیاں براہ راست دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف ہیں، نہ کہ عام شہریوں کے خلاف۔

شہریوں کا معاملہ: حقیقت یا پروپیگنڈا؟

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان طالبان اور ان کے حمایت یافتہ گروہ شہری علاقوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ دہشتگرد اپنے ٹھکانے آبادیوں، مساجد اور گھروں میں قائم کرتے ہیں تاکہ جوابی کارروائی کی صورت میں شہری نقصانات کو بطور پروپیگنڈا استعمال کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج کی کارروائیاں مکمل طور پر درست انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ان کا ہدف صرف دہشتگردوں کے ٹھکانے، اسلحہ ڈپو اور عسکری تنصیبات ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق طالبان کی جانب سے ہر ہلاک ہونے والے فرد کو “شہری” قرار دینا ایک پرانا حربہ ہے، جس کے ذریعے عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستان کا واضح پیغام: افغان عوام ہمارے بھائی، دہشتگردی ناقابل قبول

پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ افغان عوام کے ساتھ اس کا کوئی تنازع نہیں اور دونوں ممالک کے عوام تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشتگردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

سفارتکاری سے کارروائی تک: ایک مجبوری

پاکستانی ذرائع کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔

اسی وجہ سے پاکستان کو سفارتی کوششوں کے بعد عملی اقدامات کرنے پڑے، اور واضح پیغام دیا گیا کہ امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان حکومت دہشتگردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔

نتیجہ: بیانیہ یا حقیقت؟

حمد اللہ فطرت کے الزامات کے برعکس پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف ایک دفاعی جنگ لڑ رہا ہے، جس کا مقصد اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل مسئلہ شہری ہلاکتوں کا بیانیہ نہیں بلکہ وہ دہشتگرد نیٹ ورکس ہیں جو افغان سرزمین سے کام کر رہے ہیں اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

جب تک ان نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، اس قسم کے بیانات نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتے رہیں گے بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھاتے رہیں گے۔

دیکھئیے:دہشت گردی کے خلاف تازہ رپورٹ؛ کیا اقوام متحدہ کے ماہرین زمینی حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں؟

متعلقہ مضامین

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے؛ عالمی رہنماؤں اور اداروں نے تباہی کو ٹالنے پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا

April 9, 2026

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام سفارتی رابطے تیز رفتار اور خفیہ انداز میں انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کیے گئے، جہاں ایران کے ساتھ واٹس ایپ اور امریکہ کے ساتھ سگنل کے ذریعے پیغامات اور کالز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار نے وقت کی بچت اور میڈیا کی مداخلت سے بچاؤ کو ممکن بنایا۔

April 9, 2026

معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغان صوبے ہرات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں افغان گورنر سے اہم ملاقات کی

April 9, 2026

سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

April 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *