ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب اور انتہائی درست کاروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ آپریشن وادی تیراہ کے علاقے آکاخیل میں “زرمین گل چوک” کے قریب اس وقت کیا گیا جب سکیورٹی فورسز کو وہاں کالعدم تنظیم ‘لشکرِ اسلام’ کے کارندوں کی موجودگی کی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کاروائی میں دہشت گردوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 8 سے 10 جنگجو شامل تھے۔ فورسز کی اس کاروائی کے نتیجے میں 3 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت خان عالم عرف رضوان، رفیق عرف حقیار اور حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
دہشت گردوں کے نیٹ ورک
مذکورہ آپریشن سکیورٹی فورسز کی جانب سے دشمن نیٹ ورکس پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ وادی تیراہ کے دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حالیہ کاروائی نے ‘لشکرِ اسلام’ کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
سکیورٹی فورسز کا عزم
پاکستانی سکیورٹی فورسز وادی تیراہ اور ملحقہ بیلٹ میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف اس طرح کی ٹارگٹڈ کاروائیاں جاری رہیں گی تاکہ کسی بھی شرپسند گروہ کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے تاکہ فرار ہونے والے زخمی دہشت گردوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کا تعاون ناگزیر ہے: پاکستان