اسلام آباد: بلوچستان میں معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کا ایک اور شرمناک اور اخلاقی طور پر دیوالیہ چہرہ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو رپورٹ کے مطابق دہشت گرد کمانڈر بشیر زیب کی زیرِ نگرانی ایک خفیہ ٹھکانہ قائم کیا گیا ہے، جسے بدنامِ زمانہ ایپسٹین آئی لینڈ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ اس خفیہ نیٹ ورک میں مبینہ طور پر نوجوان خواتین کو پھسا کر اور بلیک میل کر کے دہشت گردی اور دیگر غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بھارتی فنڈنگ کا اعتراف
رپورٹس کے مطابق اس خفیہ ٹھکانے کو بشیر آئی لینڈ کا نام دیا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر بھارتی فنڈنگ سے چلنے والے نیٹ ورک کے تحت معصوم لڑکیوں کو مہم جوئی اور آزادی کے جھوٹے دلاسے دے کر لایا جاتا ہے۔
ویڈیو شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خواتین کو مبینہ طور پر بی ایل اے کے فدائین اور دیگر دہشت گردوں کی تسکین اور انہیں خودکش حملوں کے لیے راضی رکھنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ انکشافات بی ایل اے کے اس منافقانہ بیانیے کی مکمل نفی کرتے ہیں جس میں وہ بلوچ روایات اور خواتین کے احترام کا دعویٰ کرتے ہیں۔
نوجوانوں کا اخلاقی استحصال
سیکیورٹی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کے کمانڈرز بھارتی ایجنسیوں سے بھاری فنڈز اور ڈالرز وصول کر کے خود پرتعیش زندگیاں گزار رہے ہیں، جبکہ مقامی بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو گمراہ کر کے موت کے کنویں میں دھکیلا جا رہا ہے۔
ویڈیو کے اختتام پر بھارتی پرچم کی موجودگی میں بی ایل اے کمانڈرز کو بھارتی فنڈز اور ڈالرز گنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ نام نہاد تحریک محض چند ڈالرز اور ذاتی عیاشیوں کے لیے معصوم بلوچوں کے استحصال کا ایک تجارتی نیٹ ورک بن چکی ہے۔