بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جابرانہ کاروائیوں اور معصوم شہریوں پر مظالم کے خلاف مقامی بلوچ خواتین نے کھل کر مزاحمت کا آغاز کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک حالیہ اور انتہائی جرات مندانہ ویڈیو بیان میں بلوچستان کی ایک بہادر بیٹی نے دہشت گردوں کو براہِ راست للکارتے ہوئے ان کی بزدلانہ کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بلوچ خاتون نے واشگاف الفاظ میں کہا، میں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوں، میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہوں۔
بچوں اور خواتین پر ظلم
اپنے جذباتی اور پرعزم پیغام میں بلوچ بیٹی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر ملک اور صوبے میں امن و امان کو تباہ کر کے شہریوں کو ڈرانا اور خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ خود اپنے اوپر لعنت بھیجیں۔ انہوں نے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی بزدلی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کو دہشت زدہ کرنا، نونہالوں پر ظلم ڈھانا اور خواتین کو نشانہ بنانا کوئی بہادری نہیں بلکہ بدترین بزدلی کی نشانی ہے۔
بلوچستان کی بہادر بیٹی کی للکار
— Safina Khan (@Safinakhan) May 30, 2026
میں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوں میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہوں میں ان تمام دہشت گردوں کو جو ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں ان کو بولتی ہوں کہ اپنے اوپر خود لعنت کرو ، بچوں کے اوپر دہشت گردی کرنا بچوں کے ساتھ ظلم کرنا خواتین کے ساتھ ظلم کرنا کوئی بہادوری… pic.twitter.com/kiKPCO7xNx
دہشت گردوں کو للکار
بلوچستان کی اس بیٹی نے دہشت گردی کے خلاف صوبے کے عوام کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتے ہوئے تنظیم کو کھلا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا، “میں ایک خاتون، ایک بیٹی اور بلوچستان کی بیٹی ہو کر تمہیں للکارتی ہوں کہ اگر ہمت ہے تو سامنے آؤ۔” مقامی حلقوں کے مطابق، ایک بلوچ خاتون کی طرف سے دہشت گردوں کو اس طرح سرِعام اور براہِ راست للکارنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب صوبے کے غیور عوام دہشت گردوں کے جھوٹے بیانیے اور خوف کے بت کو پاش پاش کر چکے ہیں۔
بی ایل اے کے خلاف عوامی لہر
سیاسی اور سماجی مبصرین کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اب بلوچستان کی خواتین بی ایل اے کی دہشت گردی کی مہم سے مکمل طور پر تنگ آ چکی ہیں اور ان بلوچ دشمن عناصر کے خلاف اپنی مضبوط آواز اور عزم کا اظہار کر رہی ہیں۔ صوبے میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی نے دہشت گردوں کو عوامی سطح پر مکمل طور پر تنہا کر دیا ہے، اور اب مقامی آبادی اپنی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر ان سفاک لٹیروں کے خلاف نبردآزما ہے۔