"> بلوچستان کی بیٹی کا بی ایل اے کے دہشت گردوں کو کھلا چیلنج اور عوامی ردعمل
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بی ایل اے کی دہشت گردی کے خلاف بلوچ خواتین صف آراء؛ بلوچ بیٹی کا دہشت گردوں کو کھلا چیلنج

بلوچ خاتون نے ویڈیو بیان میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کو للکارتے ہوئے معصوموں پر ظلم کو بزدلی قرار دیا ہے اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
بلوچ خاتون نے ویڈیو بیان میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کو للکارتے ہوئے معصوموں پر ظلم کو بزدلی قرار دیا ہے اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بلوچستان کی بیٹی کا دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے خلاف جرات مندانہ چیلنج؛ بچوں اور خواتین پر مظالم کے خلاف غیور بلوچ خواتین کا شدید ردعمل۔

May 30, 2026

بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جابرانہ کاروائیوں اور معصوم شہریوں پر مظالم کے خلاف مقامی بلوچ خواتین نے کھل کر مزاحمت کا آغاز کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک حالیہ اور انتہائی جرات مندانہ ویڈیو بیان میں بلوچستان کی ایک بہادر بیٹی نے دہشت گردوں کو براہِ راست للکارتے ہوئے ان کی بزدلانہ کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بلوچ خاتون نے واشگاف الفاظ میں کہا، میں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوں، میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہوں۔

بچوں اور خواتین پر ظلم

اپنے جذباتی اور پرعزم پیغام میں بلوچ بیٹی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر ملک اور صوبے میں امن و امان کو تباہ کر کے شہریوں کو ڈرانا اور خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ خود اپنے اوپر لعنت بھیجیں۔ انہوں نے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی بزدلی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کو دہشت زدہ کرنا، نونہالوں پر ظلم ڈھانا اور خواتین کو نشانہ بنانا کوئی بہادری نہیں بلکہ بدترین بزدلی کی نشانی ہے۔

دہشت گردوں کو للکار

بلوچستان کی اس بیٹی نے دہشت گردی کے خلاف صوبے کے عوام کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتے ہوئے تنظیم کو کھلا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا، “میں ایک خاتون، ایک بیٹی اور بلوچستان کی بیٹی ہو کر تمہیں للکارتی ہوں کہ اگر ہمت ہے تو سامنے آؤ۔” مقامی حلقوں کے مطابق، ایک بلوچ خاتون کی طرف سے دہشت گردوں کو اس طرح سرِعام اور براہِ راست للکارنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب صوبے کے غیور عوام دہشت گردوں کے جھوٹے بیانیے اور خوف کے بت کو پاش پاش کر چکے ہیں۔

بی ایل اے کے خلاف عوامی لہر

سیاسی اور سماجی مبصرین کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اب بلوچستان کی خواتین بی ایل اے کی دہشت گردی کی مہم سے مکمل طور پر تنگ آ چکی ہیں اور ان بلوچ دشمن عناصر کے خلاف اپنی مضبوط آواز اور عزم کا اظہار کر رہی ہیں۔ صوبے میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی نے دہشت گردوں کو عوامی سطح پر مکمل طور پر تنہا کر دیا ہے، اور اب مقامی آبادی اپنی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر ان سفاک لٹیروں کے خلاف نبردآزما ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *