بھارتی میڈیا نیٹ ورک اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ممبئی اور نئی دہلی میں اہم سرکاری تنصیبات، ریلوے اسٹیشنز اور عوامی پارکوں پر مبینہ حملوں کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، اس مبینہ کارروائی کے دوران مختلف مقامات سے 9 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔
گٹھ جوڑ کا راگ
دہلی پولیس اور بھارتی سیکیورٹی اداروں نے حسبِ روایت اس کارروائی میں بھی پاکستان پر الزام تراشی کا پرانا کارڈ استعمال کیا ہے۔ بھارتی پولیس نے پروپیگنڈا کرتے ہوئے یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کیے گئے ملزمان پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی اور ممبئی انڈر ورلڈ کے مشترکہ نیٹ ورک کے لیے کام کر رہے تھے اور مقامی نوجوانوں کو مبینہ تخریب کاری کے لیے بھرتی کرنے میں مصروف تھے۔ بھارتی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے 4 پاکستانی ساختہ ہینڈ گرینیڈز اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
بھارتی بیانیے کا تمسخر
دوسری جانب بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں کے اس روایتی اور سنسنی خیز دعوے کو عوامی سطح اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور تمسخر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صارفین اور آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ہر واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا اب ایک طے شدہ معمول اور فرسودہ اسکرپٹ بن چکا ہے۔
ناکامیوں سے توجہ ہٹانا
ناقدین کے مطابق، جب بھی مودی حکومت کو سنگین اندرونی سیکیورٹی چیلنجز، معاشی بحران، سیاسی دباؤ یا اپنی ایجنسیوں کی فاش ناکامیوں کا سامنا ہوتا ہے، تو رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے فوری طور پر پاکستانی لنک اور آئی ایس آئی ایجنٹ کا راگ الاپ دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ عوامی توجہ ہٹانے اور سستی سنسنی خیزی پیدا کرنے کے لیے بار بار ایک ہی پرانا کارڈ کھیلا جاتا ہے، جس کی حقیقت اب دنیا بھر پر عیاں ہو چکی ہے۔