منصوبے میں آبنائے ہرمز کی بحالی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جہاں نہ صرف اسے دوبارہ کھولنے بلکہ وہاں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ پروٹوکول اور شرائط طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

April 8, 2026

پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں 15 دن تک بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

April 8, 2026

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

April 8, 2026

وزیراعظم نے اپنے بیان میں ایران سے بھی جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی تھی، جبکہ تمام فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوں تاکہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

April 8, 2026

امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو مؤثر بنانے کیلئے ڈیڈ لائن میں کم از کم دو ہفتوں کی مہلت دی جائے تاکہ جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

April 8, 2026

ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

April 7, 2026

ایران اور امریکا نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی منظور کرلی، پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں،مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں متوقع

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے دو ہفتے کی آفر قبول کر لی

دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جبکہ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کی ثالثی کے احترام میں جنگ بندی کی منظوری دے دی ہے۔

April 8, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے دو ہفتوں کیلئے معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کی جنگ بندی تجویز کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے، جبکہ ایران، امریکا اور اسرائیل بھی عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں اور مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر انہوں نے آج رات متوقع تباہ کن حملہ روک دیا، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ایران پر بمباری اور عسکری کارروائیاں دو ہفتوں کیلئے معطل کی جا رہی ہیں اور یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی تاکہ سفارتی عمل کو موقع دیا جا سکے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا اپنے “تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے” اور اب ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابل عمل سمجھا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ تر متنازع نکات پر پہلے ہی اتفاق رائے ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے اہم ہوں گے۔


دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جبکہ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کی ثالثی کے احترام میں جنگ بندی کی منظوری دے دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایران کے ساتھ جنگ بندی کیلئے سرگرم رابطے کر رہے ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس عمل میں شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی فعال سفارتکاری نے ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مذاکرات کے نتائج خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

دیکھئیے:وائٹ ہاؤس: ٹرمپ شہباز شریف کی اپیل سے آگاہ، ردعمل جلد متوقع؛ ایران بھی غور میں مصروف ہے

متعلقہ مضامین

منصوبے میں آبنائے ہرمز کی بحالی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جہاں نہ صرف اسے دوبارہ کھولنے بلکہ وہاں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ پروٹوکول اور شرائط طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

April 8, 2026

پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں 15 دن تک بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

April 8, 2026

وزیراعظم نے اپنے بیان میں ایران سے بھی جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی تھی، جبکہ تمام فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوں تاکہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

April 8, 2026

امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو مؤثر بنانے کیلئے ڈیڈ لائن میں کم از کم دو ہفتوں کی مہلت دی جائے تاکہ جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

April 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *