امریکی صدر ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر امریکہ ایران کے خلاف مجوزہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے اور مشروط جنگ بندی پر آمادہ ہے۔ اس اعلان کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز کو فوری، محفوظ اور مکمل طور پر کھولنا ہوگا، جس کے بدلے میں امریکہ فوجی کارروائی سے گریز کرے گا۔

پاکستان کی کلیدی سفارتی کوششیں
شہباز شریف نے اس پیش رفت میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے تمام فریقین سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی اپیل کی تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے۔ انہوں نے امریکی صدر سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی اور ایران سے خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیا، جس کے نتیجے میں سفارتی عمل کو تقویت ملی۔
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
I warmly welcome the…
اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز
پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں 15 دن تک بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
ایران کا ردعمل اور سفارتی مؤقف
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اعلان کیا کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دے گا۔ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس پیش رفت کو ایک حساس مگر مثبت مرحلہ قرار دیتے ہوئے مزید سنجیدہ سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا
ایران نے مذاکرات کے لیے ایک جامع 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں خطے میں جاری جنگوں کا خاتمہ، ایران کے خلاف مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور ایران کی تعمیر نو کے لیے مالی معاوضہ شامل ہے۔ ایران کے مطابق امریکہ اس فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر چکا ہے۔
ٹرمپ کی ڈیڈ لائنز اور سخت بیانات
ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو متعدد بار سخت ڈیڈ لائنز دیں اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ایران کو “پتھر کے زمانے میں واپس بھیجا جا سکتا ہے” اور آج انہوں نے ”ایرانی تہذیب کے ہمیشہ کیلئے خاتمے” کی دھمکی بھی دے رکھی تھی، تاہم حالیہ جنگ بندی نے وقتی طور پر کشیدگی میں کمی پیدا کی ہے۔
عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی
جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں برینٹ خام تیل اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آئی۔ یہ پیش رفت عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
خطے میں امن کی امید
شہباز شریف نے اس پیش رفت کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔ ان کے مطابق دونوں فریقین نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب سفارت کاری کے ذریعے مستقل حل ممکن ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ایک بڑے علاقائی تنازع کے خاتمے کی جانب اہم قدم بھی ہے۔ تاہم حتمی کامیابی کا انحصار اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر ہوگا، جہاں یہ طے کیا جائے گا کہ جنگ بندی عارضی ہے یا مستقل امن میں بدلتی ہے۔