مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے عمل کو پائیدار بنانے اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد “اسلام آباد مذاکرات” کے لیے وسیع تر علاقائی حمایت حاصل کرنا ہے۔
نائب وزیراعظم نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے تفصیلی گفتگو کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان سے رابطہ کر کے انہیں پاکستان کے امن مشن اور امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ نے مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو سراہا اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
مصری قیادت کو اعتماد میں لینے کا عمل
علاقائی روابط کے اسی سلسلے میں اسحاق ڈار نے مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ سفارتی روابط ہی تمام تنازعات کا واحد حل ہیں۔ نائب وزیراعظم نے مصری ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کوششوں اور جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔
سفارتی حلقوں کی رائے
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے یہ رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک ثالث نہیں بلکہ خطے کی تمام اہم طاقتوں کو ساتھ لے کر چلنے والا ایک ذمہ دار کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ یہ متحرک سفارتکاری ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو برادر اسلامی ممالک کی مکمل سیاسی اور سفارتی تائید حاصل ہے۔