مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والی بارود کی بُو اب امن کی ٹھنڈی ہواؤں میں بدلنے لگی ہے اور تاریخِ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب دنیا کی عظیم طاقتیں اور بڑے بڑے عالمی ادارے کسی گھمبیر مسئلے کو حل کرنے میں فکری و عملی طور پر ناکام ہو جاتے ہیں، تو اکثر اوقات ایک ایسی ریاست مسیحا بن کر ابھرتی ہے جس کے پاس نہ صرف مادی و عسکری قوت ہوتی ہے بلکہ اخلاقی جرات، بلند قامت کردار اور بصیرت انگیز سفارت کاری کا وسیع ذخیرہ بھی ہوتا ہے۔ آج پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی تاریخی جنگ بندی کروا کر اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے آمادہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی سیاست کے فقط ناظرین میں سے نہیں بلکہ ایک ایسا ناگزیر کھلاڑی ہے جس کے بغیر عالمی استحکام مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس عظیم کامیابی کے پسِ منظر میں اگر ہم ان ہولناک خدشات کا جائزہ لیں کہ اگر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بروقت مداخلت نہ کرتے تو شاید آج دنیا ایک ہولناک عالمی جنگ اور ممکنہ ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑی ہوتی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ مہلت کے خاتمے پر تہران پر ہونے والی بمباری نہ صرف خطے کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیتی بلکہ عالمی معیشت کو مفلوج کر کے انسانیت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی۔
پاکستان کی اس بے مثال کامیابی کے پیچھے ایک مضبوط اور آہنی سفارتی مثلث کا کلیدی ہاتھ ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی کی پالیسی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وہ غیر جانبدارانہ اور پُر اثر عسکری سفارت کاری جس نے واشنگٹن کے جرنیلوں اور تہران کے کمانڈروں کے مابین برسوں سے قائم عدمِ اعتماد کی فولادی دیواروں کو گرا دیا، اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی وہ شبانہ روز سفارتی تگ و دو شامل ہے جس نے ریاض، انقرہ اور قاہرہ جیسی علاقائی طاقتوں کو ایک ہی مرکز پر یکجا کر دیا ہے۔ یہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے مابین موجود اسی مثالی ہم آہنگی اور یکسوئی کا کرشمہ ہے کہ آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا سخت گیر اور “طاقت پر یقین رکھنے والا عالمی لیڈر بھی پاکستانی قیادت کے وقار اور خلوص کا اعتراف کرنے اور ان کی استدعا پر اپنا حتمی فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا وزیراعظم پاکستان کو “نہایت معزز شخصیت” قرار دینا محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس عالمی ساکھ کا اعتراف ہے جو پاکستان نے اپنی انتھک کوششوں سے دوبارہ حاصل کی ہے۔
یہ سفارتی معرکہ اس وقت حاصل کیا گیا جب خطے میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کی کوششیں عروج پر تھیں، پاسدارانِ انقلاب کے بعض دھڑوں کے جارحانہ بیانات اور سعودی عرب کی حساس تنصیبات پر حملوں جیسے واقعات نے فضا کو زہریلا کر رکھا تھا، مگر پاکستان نے سعودی عرب کا تزویراتی حلیف ہونے کے باوجود جس مہارت سے تہران کا اعتماد برقرار رکھا، وہ اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی قد و قامت کی روشن دلیل ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان کا کردار ایک ایسے پُل کی مانند رہا ہے جس نے مشرق اور مغرب کے دو متضاد انتہاؤں کو جوڑ دیا ہے۔ جہاں ایک طرف واشنگٹن پاکستان کی فوجی پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک اہمیت کا معترف ہے، وہاں دوسری جانب تہران پاکستان کو ایک ایسا برادر ملک سمجھتا ہے جو مشکل وقت میں کبھی پیٹھ نہیں دکھاتا۔ یہی وہ توازن اور ‘جیو پولیٹیکل’ توازن ہے جس نے پاکستان کو اس قابل بنایا کہ وہ ایران کے دس نکاتی امن ایجنڈے کو واشنگٹن کے لیے “قابلِ عمل بنیاد” بنا کر پیش کر سکے اور سپر پاور کو اس بات پر آمادہ کرے کہ بندوق کی گولی سے بہتر مذاکرات کی میز اور الفاظ کی قوت ہے۔
پاکستان کی جانب سے امن کی خاطر کی جانے والی ان کوششوں کی جڑیں تاریخ کی کتابوں میں بہت گہری پیوست ہیں۔ دنیا ابھی بھولی نہیں کہ یہ پاکستان ہی تھا جس نے ستر کی دہائی میں امریکہ اور چین کے مابین قربت پیدا کر کے عالمی سیاست کا رخ موڑ دیا تھا۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے افغانستان میں طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے دوحہ مذاکرات کی راہ ہموار کی اور انسانیت کو ایک بڑے انسانی المیے سے بچایا۔ آج کا پاکستان اسی مخلصانہ جذبے اور نئی توانائی کے ساتھ میدانِ عمل میں ہے جہاں اس کی خاموش لیکن نہایت مؤثر سفارت کاری نے اقوامِ عالم کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ ریاستیں جو کل تک پاکستان کو تنہا کرنے اور اسے عالمی تنہائی کا شکار بنانے کے خواب دیکھتی تھیں، آج اس کی دہلیز پر ستائش کے پھول نچھاور کرتی نظر آتی ہیں۔ ملائیشیا کے انور ابراہیم کا جرات مندانہ اعتراف ہو، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی تحسین ہو، یا قازقستان، ترکیہ اور آسٹریلیا کی قیادت کی تائید؛ یہ سب اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلام آباد اب محض ایک شہر نہیں بلکہ عالمی امن کا وہ نیا ‘ امن مشن’ مرکز بن چکا ہے جہاں دس اپریل کو ہونے والے مذاکرات پوری دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
پاکستان کا یہ امن مشن صرف جغرافیائی حدود یا کسی خاص مفاد تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس نظریاتی اساس کا تسلسل ہے جہاں پاکستان خود کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مرکز اور عالمی امن کا ضامن گردانتا ہے۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ لبنان سے یمن اور عراق سے شام تک آگ کی لپیٹ میں ہے، پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اپنے مفاد کی جنگ نہیں لڑتا بلکہ پوری انسانیت کے کرب کا مداوا کرنے کی تڑپ رکھتا ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی فتح نے ان تمام منفی پراپیگنڈوں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے جو پاکستان کے عسکری اور سیاسی نظام کے مابین دراڑوں کی افواہیں پھیلا رہے تھے۔ آج فیلڈ مارشل عاصم منیر کے عسکری روابط اور وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی رابطے مل کر ایک ایسی قوت بن چکے ہیں جس کا دنیا اعتراف کر رہی ہے۔
ادارے کے مطابق دس اپریل سے شروع ہونے والے اسلام آباد مذاکرات محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک نئے عہد کا سنگِ بنیاد ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں امریکہ اور ایران کے مابین 47 سالہ طویل ترین دشمنی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ حقیقی طاقت صرف ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیروں یا معاشی حجم میں نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس اخلاقی برتری اور سفارتی مہارت میں پنہاں ہے جو فریقین کو نفرت کے اندھیروں سے نکال کر مکالمے کی روشنی میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ آج پاکستان کا قد و قامت ہمالیہ سے بلند نظر آ رہا ہے، کیونکہ اس نے انسانیت کو اس ہولناک تباہی سے بچایا ہے جس کا تصور بھی روح فرسا تھا۔ اسلام آباد کی سرزمین پر ہونے والا یہ امن عمل پوری امتِ مسلمہ کے وقار میں اضافے اور عالمی استحکام کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ پاکستان کا یہ سفر اب رکنے والا نہیں، کیونکہ امن کا پیامبر اب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ عالمی افق پر نمودار ہو چکا ہے۔