عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے معتبر اخبار “دی بلک” نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی تنازعات میں سوئٹزرلینڈ کا بطور روایتی ثالث برسوں پر محیط کردار اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اخبار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان اب ایک طاقتور عالمی ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جس نے سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
تاریخی معاہدہ
سوئس میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی غیر معمولی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نہ صرف جنگ بندی شامل ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو بھی ہر قسم کی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار
رپورٹ میں اس بڑی کامیابی کا سہرا پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سر باندھا گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ “براہِ راست رابطے” اس ناممکن نظر آنے والے معاہدے کی بنیاد بنے۔ سوئس اخبار نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصویر کے ساتھ ان کی بصیرت اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی تعلقات کو اس سفارتی بریک تھرو کی اصل وجہ قرار دیا ہے، جس نے پاکستان کو عالمی سیاست کا نیا مرکز بنا دیا ہے۔